.

پرویز مشرف کی حالت خطرے سے باہر، خود باہر جانے کا امکان

سابق صدرعدالت میں پیش ہو کر انسانی بنیادیں بروئے کار لائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سابق صدر اور سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف جنہیں اچانک ہارٹ اٹیک کے بعد غداری کیس کو ایک نیا ڈرامائی رخ ملا ہے کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ صحت یابی اور اطمینان کے بعد وہ عدالت کی بالا دستی کو تسلیم کرتے ہوئے عدالت میں پیش ہو جائیں گے۔

ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کی عدالت کی طرف جاتے ہوئے عارضہ قلب کا پیش آ جانا، سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل کی آمد کی خبر کا سامنے آنا، فوج کے کور کمانڈرز کا اجلاس اتفاق سے اسی روز منعقد ہونا، وزیر اعظم سے وزیر دفاع خواجہ آصف کی ملاقات کا ہونا، صہبا مشرف کا اپنے میاں کی عیادت کیلیے اسقدر جلد پاکستان پہنچنا اور اسی قدر جلدی واپس چلے جانا بھی عوامی سطح پر زیر بحث رہا۔ گویا آنے اور جانے کی راہ ہموار ہو رہی ہے اور جنرل مشرف کی حالت خطرے سے باہر ہونے کیساتھ وہ ملک سے باہر ہو سکتے ہیں۔

لیکن جنرل مشرف بھی اس غداری کیس کے سلسلے میں وہ فوج یا حکومت سے کسی مدد لینے یا ڈیل کے تاثر کو پسند نہیں کریں گے اور نہ کسی دوسرے کیلیے اس تاثر کو پسند کریں گے بلکہ خود کو مکمل طور پر عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اپنی صحت کے حوالے سے انسانی بنیادوں پر وکلاء صفائی کے ذریعے درخواست کر سکتے ہیں۔

واضح رہے خصوصی عدالت نے جمعرات کے روز بھی انسانی بنیادوں پر ہی استغاثہ کی درخواست رد کر کے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو ایک دن کیلیے مزید حاضری سے استثنا دے کر انہیں پیر کے دن تک مہلت دی ہے۔

ذرائع کے مطابق عارضہ قلب کو سابق آرمی چیف سے جس طرح اچانک سامنا کرنا پڑا ہے اس ضعیف العمری میں ان کے اطمینان کے مطابق انہیں علاج کا موقع دینا لازمی ہے۔ نیز اس صورتحال میں پاکستان کے دیرینہ دوست بھی اگر براہ راست یا بالواسطہ طور پر متحرک ہوتے ہیں تو انسانی بنیادوں پر یہ ان کا حق ہے۔

تاہم حکومت یا حکومت کے ماتحت ادارے اس معاملے میں عدالتوں کو اپنے انداز سے کام کرنے کا موقع دینے کا عزم رکھتے ہیں جیسا کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف سے وزیر دفاع کی ملاقات کے بعد یہ موقف بھی سامنے آ گیا ہے کہ اگر عدالت انہیں انسانی بنیادوں پر باہر جانے کی اجازت دیتی ہے تو حکومت کو اعتراض نہیں ہوگا۔

بعض مبصرین متحدہ عرب امارات سے آنے والے معزز مہمان شیخ خلیفہ بن زید کی آمد اور ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کی مدد کیلیے تیار رہنے والے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل کی متوقع آمد اسی تناظر میں دیکھتے ہیں لیکن جنرل مشرف اپنے بیرونی 'دوستوں' سے مدد لینے کے لیے رابطے کرنے کی پہلے ہی تردید کر چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اگر کار عدالت میں مداخلت نہ ہوتی تو یہ بہ آسانی کہا جا سکتا تھا کہ جنرل مشرف کے انسانی بنیادوں پر ملک سے باہر علاج کیلیے جانے میں شاید ہی کوئی رکاوٹ باقی ہو۔ جنرل مشرف بھی اچھے بچوں کی طرح بالآخرعدالت میں پیش ہوںگے اور انسانی بنیادوں پر ان کے وکلا ہارٹ اٹیک سے سامنے آنے والی بنیادوں کو جواز بنا کر علاج کیلیے باہر جانے کی استدعا کریں گے۔