.

جنرل پرویز مشرف کی فوجی ہسپتال میں ای سی جی مکمل

استغاثہ کا گرفتاری کا مطالبہ، علاج کیلیے ملک سے باہر جانے کی چہ مگوئیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سابق صدر اور سابق فوجی سربراہ جنرل پرویز پرویز مشرف کو اچانک دل کے دورے نے غداری کیس میں ان کی پیشی کو ایک نیا اور ڈرامائی رخ دے دیا ہے۔ وہ عدالت میں طلبی کے حوالے سے سخت عدالتی لہجے کے بعد عدالت کی طرف روانگی کے دوران دل کا دورہ پڑنے کے باعث راولپنڈی کے امراض قلب کے فوجی ہسپتال میں داخل ہوگئے ہیں جہاں ابتدائی معائنے کے طور پر ان کی ای سی جی کر دی گئی ہے۔

ڈاکٹروں کی ایک ٹیم ان کا معائنہ میں مصروف ہے اور انکے علاج اور عارضہ قلب کی گیرائی کا جائزہ لے رہی ہے ، تاہم ابھی ای سی جی رپورٹ کے حوالے سے طبی نقطہ نگاہ سے کچھ سامنے نہیں آیا ہے کہ ای سی جی میں عارضہ قلب کی نوعیت اور شدت کیا ہے اور اس کے علاج معالجے کیلیے کتنا وقت درکار ہو۔

البتہ جنرل پرویز مشرف قانونی ٹیم کے سربراہ شریف الدین پیر زادہ نے اپنے موکل کے بیماری کی وجہ سے ملک سے باہر جانے یا جانے کے بارے میں کسی تبصرے سے معذرت کی ہے۔ اب اس کا انحصار خالصتاً امراض قلب کے فوجی ہسپتال کی طبی رپورٹس پر ہو گا کہ جنرل پرویز مشرف کا علاج کہاں زیادہ بہتر ممکن ہے ملک کے اندر یا ملک سے باہر۔

دوسری جانب غداری کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کے شام چار بجے عبوری فیصلے کا بھی انتظار ہے کیونکہ استغاثہ کا گرفتاری کا حکم دینے پر اصرار ہے۔