.

القاعدہ سے پاکستان میں اغوا امریکی کی جلد رہائی کی اپیل

حال ہی میں جاری کردہ ویڈیو سے وین اسٹین کے زندہ ہونے کا یقین نہیں ہوا:خاندان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں دوسال قبل القاعدہ کے ہاتھوں اغوا ہونے والے امریکی ترقیاتی ماہر وارن وین اسٹین کے خاندان کے افراد کا کہنا ہے کہ انھیں حال ہی میں منظرعام پر آنے والی ویڈیو سے ان کے زندہ ہونے کا یقین نہیں ہوا۔

امریکا میں اس خاندان نے جمعرات کو ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا ہے کہ وین اسٹین کی باقاعدہ تاریخ کے ساتھ زندہ اور بہتر ہونے کی تصدیق درکار ہے۔خاندان نے اغواکاروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جلد سے جلد وین اسٹین کو رہا کردیں۔

خاندان کے افراد کا کہنا ہے کہ انھیں وین اسٹین کی صحت کے حوالے سے تشویش لاحق ہے۔ان کے آجر ادارے جی ای آسٹن ایسوسی ایٹس کے مطابق وین اسٹین قلب کے عارضے میں مبتلا ہیں اور انھیں اس کے لیے دواؤں کی ضرورت ہوتی ہے۔

پاکستان میں دوسال قبل اغوا کیے گئے 72 سالہ امریکی کنٹریکٹر وارن وین اسٹین نے گذشتہ جمعرات کو منظرعام پر آنے والی ایک ویڈیو میں صدربراک اوباما سے اپنی رہائی کے لیے مدد کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ وہ محسوس کرتے ہیں انھیں مکمل طور پر نظرانداز کردیا اور بھلا دیا گیا ہے۔

لیکن اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد ایسا کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ یہ کب بنائی گئی تھی۔البتہ ان کی جانب سے جاری کردہ خط پر 3 اکتوبر کی تاریخ درج ہے۔اس سے پہلے ستمبر 2012ء میں ان کی دو ویڈیوز جاری کی گئی تھیں۔نئی ویڈیو اور اس کے ساتھ وین اسٹین کا ایک خط کسی نامعلوم شخص کی جانب سے رپورٹروں کو بھیجا گیا تھا۔اس پر القاعدہ کے میڈیا ونگ الصحاب کا لیبل لگا ہوا ہے۔

اس ویڈیو میں وین اسٹین ایک سفید دیوار کے آگے بیٹھے بول رہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ وہ گذشتہ دوسال سے یرغمال ہیں۔وہ امریکی صدر براک اوباما سے مخاطب ہو کر کہہ رہے ہیں:''آپ اس وقت بطور صدر امریکا اپنی دوسرے مدت گزار رہے ہیں۔اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ دوبارہ انتخاب سے متعلق کسی قسم کے خوف سے بے نیاز ہوکر سخت فیصلے کرسکتے ہیں''۔

وہ تیرہ منٹ کی اس ویڈیو میں بتارہے ہیں کہ ''میں نوسال قبل اپنی حکومت کی مدد کے لیے پاکستان آیا تھا اور میں ایسے وقت میں اس ملک میں آیا تھا جب بہت سے امریکی یہاں آنے سے کترا رہے تھے۔اب جب مجھے میری حکومت کی مدد کی ضرورت ہے تو یہ لگتا ہے کہ مجھے مکمل طور پر نظر انداز کردیا گیا ہے اور بھلا دیا گیا ہے۔اس لیے میں ایک مرتبہ پھر آپ سے (صدراوباما سے) اپیل کرتا ہوں کہ آپ اپنے متعلقہ عہدے داروں کو میری رہائی کے لیے مذاکرات کی ہدایت کریں''۔

واضح رہے کہ وین اسٹین کو پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں اگست 2011ء میں ان کی جائے قیام گھر سے نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا تھا۔وہ امریکی فرم جے ای آسٹن کے پاکستان میں کنٹری ڈائریکٹر کے طور پر کام کررہے تھے۔یہ فرم کاروباری اور سرکاری شعبوں کو مختلف امور کے حوالے سے مشاورت فراہم کرتی ہے۔

القاعدہ کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری نے 2011ء میں ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر امریکا افغانستان ،پاکستان ،صومالیہ اور یمن پر فضائی حملے روک دیتا ہے تو وین اسٹین کو رہا کردیا جائے گا۔انھوں نے دنیا بھر میں قید القاعدہ اور طالبان کے تمام مشتبہ افراد کو رہا کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔