.

علیل مشرف آج عدالت میں پیش نہیں ہوں گے:وکیل

سابق آمر صدر کے علاج کے لیے بیرون ملک روانہ ہونے کی افواہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سابق جنرل صدر پرویز مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری نے کہا ہے کہ ان کے موکل اپنی علالت کے پیش نظر آج سوموار کو سنگین غداری کیس میں عدالت میں پیش نہیں ہوں گے۔

ستر سالہ سابق صدر کو گذشتہ جمعرات کو اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ سے خصوصی عدالت میں پیشی کے لیے لایا جارہا تھا لیکن راستے میں اچانک ان کے دل میں تکلیف پیدا ہوگئی اور ان کا رنگ پیلا پڑجانے کے بعد انھیں فوجی اسپتال لے جایا گیا تھا جہاں ان کے مختلف ٹیسٹ لیے گئے اور اتوار کو بھی وہ آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں زیر علاج تھے۔

ان کے وکلاء کی ٹیم کے ایک رکن احمد رضا قصوری کا کہنا ہے کہ''ہرکوئی ان کی بیماری سے آگاہ ہے۔پوری دنیا جانتی ہے کہ وہ انتہائی نگہداشت کے یونٹ (آئی سی یو) میں زیر علاج ہیں اور عدالت کو بھی اس بات کا علم ہے''۔

انھوں نے کہا کہ انھوں نے سنگین غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت سے زبانی درخواست کی ہے کہ پرویز مشرف کو حاضری سے مستثنیٰ قرار دے دیا جائے۔

اس تین رکنی خصوصی عدالت نے جمعرات کو سابق آمر پرویز مشرف کی اچانک بیماری کے بعد عدم پیشی پر سماعت سوموار تک ملتوی کردی تھی اور انھیں ذاتی طور پرعدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا تھا۔احمد رضاقصوری نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ عدالت سابق صدر کو ذاتی طور پیش ہونے سے مستثنیٰ قراردے دے گی اور ایسا وہ قانون کے مطابق کرے گی کیونکہ انسانی زندگی انصاف پر مقدم ہے۔

انھوں نے گذشتہ روز یہ اطلاع دی تھی کہ جنرل پرویز مشرف کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں نے ان کی میڈیکل رپورٹس برطانیہ میں ماہرین کو بھیج دی ہیں تاکہ اندرون یا بیرون ملک ان کے علاج کے حوالے سے کوئی فیصلہ کیا جاسکے۔

سابق مطلق العنان صدر کے اچانک بیمار پڑجانے کے بعد سے میڈیا میں مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں اور یہ کہا جارہا ہے کہ طبی وجوہ کی بنا پر ان کی پاکستان سے سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات رخصتی ناگزیر نظر آرہی ہے۔بعض تجزیہ کار حکومت اور پاک فوج کے درمیان کسی ممکنہ تصادم کو ٹالنے کے لیے پرویز مشرف کی ملک سے رخصتی کی ڈیل کو یقینی قراردے رہے ہیں۔

تاہم وزیراعظم میاں نواز شریف کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف آئین اور قانون کے مجرم ہیں۔ان کے بارے میں فیصلہ کرنا عدالت کا کام ہے۔حکمراں پاکستان مسلم لیگ نواز کے ترجمان صدیق الفاروق نے سابق صدرکے بیرون ملک جانے کے حوالے سے کسی ڈیل کے وجود سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت عدالت کے حکم کی پاسداری کرے گی۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں کوئی غیر ملکی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔البتہ اگر حکومت طبی وجوہ کی بنا پرانھیں بیرون ملک جانے اجازت دے دیتی ہے تو حکومت اس میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔

سابق صدر کے خلاف غداری کا مقدمہ غداری ایکٹ مجریہ 1973ء کے تحت چلایا جارہا ہے۔اس کے تحت جنرل پرویز مشرف کو قصوروار ثابت ہونے پر عمر قید یا موت کی سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔آئین کی دفعہ چھے میں بھی اس سنگین جرم کی یہی سزا مقرر ہے۔ان کے خلاف اس مقدمے کی سماعت تین رکنی خصوصی عدالت کررہی ہے۔اس کے سربراہ عدالتِ عالیہ سندھ کے جج جسٹس فیصل عرب ہیں۔عدالتِ عالیہ لاہور کے جج یاور علی خان اور بلوچستان ہائی کورٹ کی خاتون جج طاہرہ صفدر اس کی رکن ہیں۔

ریٹائرڈ جنرل مشرف کے خلاف 3نومبر2007ء کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ ،آئین معطل کرنے اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو نظربند کرنے کے اقدامات پر آئین کی دفعہ چھے کے تحت غداری کا مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ آئین توڑنے پر کسی فوجی صدر کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

ان کے خلاف اس سے پہلے سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی دسمبر 2007ء میں بم دھماکے میں ہلاکت سمیت چار فوجداری مقدمات چلائے جارہے ہیں۔ان چاروں مقدمات میں ان کی ضمانت منظور ہوچکی ہے اور عدالت نے ضمانتی مچلکے جمع کروانے پر انھیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔