.

غداری کیس، فوجی ہسپتال سے طبی دستاویزات طلب

مشرف کو حاضری سے استثنا، ملزم نے ہسپتال میں پناہ لی ہے، استغاثہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سابق فوجی سربراہ کے خلاف خصوصی عدالت نے غداری کیس میں حکم دیا ہے کہ ملزم پرویز مشرف کے طبی معائنے سے متعلق تمام دستاویزات فوجی ہسپتال کے ایم ایس منگل کے روز ساڑھے گیارہ بجے دن عدالت میں پیش کریں۔ یہ حکم خصوصی عدالت نے پیر کے روز پاکستان کی عدالتی تاریخ کے سب سے اہم ملزم پرویز مشرف کو ایک مرتبہ پھر عدالت میں حاضر ہونے سے عملا غیر معینہ مدت کیلیے استثنا دے دیا ہے۔

اس سے پہلے عدالتی کارروائی کے دوران وکیل استغاثہ نے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے ملزم پر فوجی ہسپتال میں پناہ لینے کا الزام عاید کیا۔ اس موقع پر وکلاء صفائی اور وکیل استغاثہ کے درمیان جھڑپ جیسا ماحول بن گیا، تاہم عدالت نے احترام عدالت کی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا یہ عدالت ہے اسمبلی نہیں ہے۔

پیر کے روز ملزم کے ایک وکیل انور منصور نے اپنے دلائل مکمل کیے۔ دوسری جانب استغاثہ کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کے وکلاء کو عدالت میں پیش ہونے کا حق نہیں ہے۔ کیونکہ ان کا موکل مسلسل عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

عدالتی سماعت میں مختصر وقفے کے بعد عدالت نے سابق آرمی چیف کو تاحکم ثانی عدالت میں پیش نظر حاضری سے استثنا دیتے ہوئے امراض قلب کے فوجی ہسپتال کے ایم ایس کو حکم دیا ہے کہ وہ منگل کے روز ملزم پرویز مشرف کے طبی معائنوں سے متعلق تمام دستاویزات عدالت میں صبح ساڑھے گیارہ بجے تک پیش کریں۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے تمام میڈیکل ٹیسٹ اطمینان بخش آئے ہیں اور غیر ملکی معالجین نے بھی کسی ہنگامی ریسپانس کی ضرورت نہیں محسوس کی ہے کا امراض قلب کے فوجی ہسپتال میں داخل رہنا غداری کیس کے استغاثہ کیلیے ناقابل فہم ہو گیا ہے۔ تاہم فوجی ہسپتال کے معالجین نے غداری کیس کے ملزم کو مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے اور پیر کی دوپہر تک ملاقاتیوں کو بھی اجازت نہیں دی تھی۔

پیر کے روز خوصوصی عدالت میں غداری کیس کی سماعت شروع ہوئی تو تین رکنی عدالت کے سربراہ جسٹس فیصل عرب نے ملزم پرویز مشرف کے وکلاء سے ملزم کے بارے میں دریافت کیا کہ وہ کہاں ہیں۔ اس پر ایک وکیل صفائی شریف الدین پیر زادہ نے کہا سب جانتے ہیں جنرل پرویز مشرف ہسپتال میں زیر علاج ہیں ۔

تاہم ان وکلاء نے کہا ابھی ان میں سے کسی کی اپنے موکل سے ملاقات نہیں ہوئی ہے، ڈاکٹروں نے انہیں آرام کا مشورہ دیا ہے۔ اس سے پہلے جمعرات کے روز بھی خصوصی عدالت نے غداری کیس کے ملزم کو عدالت میں حاضر ہونے سے استثنا دیا تھا۔ اب اس بارے میں مزید کسی فیصلے کا امکان طبی دستاویزات پر ہوگا جو عدالت نے طلب کی ہیں۔