.

سعودی وزیر خارجہ کی پاکستانی صدر اور وزیر اعظم سے اہم ملاقاتیں

مشرف کو دل اور گردوں کا عارضہ، فوجی ہسپتال کی رپورٹ خصوصی عدالت میں پیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل کی موجودگی اور سابق صدر و آرمی چیف پرویز مشرف کیخلاف خصوصی عدالت میں غداری کیس کے باعث پاکستان کا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد منگل کے روز اہم مصروفیات اور خبروں کا مرکزبنا رہا ہے۔

شہزادہ سعود الفیصل کی ایوان صدر میں صدر مملکت ممنون حسین سے قبل از دوپہر ملاقات ہوئی ہے۔ اس سے پہلے ان کی وزیر اعظم سے اہم ترین ملاقات ہو چکی ہے۔ ان ملاقاتوں کے علاوہ سعودی وزیر خارجہ کی مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز سے بھی ملاقاتیں طے ہے جبکہ سعودی سفارت خانے کے مطابق دفتر خارجہ میں مشترکہ پریس کانفرنس بھی ہو گی اور بعد ازاں سعودی وزیر خارجہ واپس روانہ ہو جائیں گے۔

سعودی سفارت خانے نے بھی وزیر خارجہ کی ایک ایسے موقع پر آمد کو جب ساق فوجی سربراہ غداری کیس کا سامنا کر رہے ہیں محض اتفاق قرار دی کیونکہ شہزادہ سعود الفیصل کو اس دورے کی دعوت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر پچھلے سال ستمبر میں دی گئی تھی۔ اسی وقت تاریخوں کو بھی فائنل کر لیا گیا تھا۔ اس کے باوجو اسلام آباد میں سعودی عرب سے آنے والے معزز مہمان کی آمد کو مبصرین نے پرویز مشرف کے حوالے سے مختلف چہ مگوئیوں کا موضوع بنائے رکھا۔

دوسری جانب جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے جمعرات کے روز سے اب تک پاکستان میں امراض قلب کے سب سے بڑے فوجی ہسپتال میں ہونے والے طبی معائنوں پر مبنی رپورٹ خصوصی عدالت میں پیش کر دی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں ان غیر ملکی معالجین کا حوالہ بھی موجود ہے جن سے رائے لینے کیلیے پرویز مشرف کے حالیہ میڈیکل ٹیسٹ انہیں بھجوائے گئے تھے۔ یہ رپورٹ بھجوانے کا حکم عدالت نے پیر کے روز دیا تھا۔

رپورٹ کے حوالے سے ابتدائی طور پر سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق سابق آرمی چیف چیف کے دل کو خون فراہم کرنے والی تین شریانوں کا بیشتر حصہ کیلشیم بڑھنے سے بند ہو چکا ہے۔ اسی طرح غداری کیس کی سماعت کرنے والی عدالت میں پیش کردہ رپورٹ میں پرویز مشرف میں نو مختلف امراض کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس سے پہلے ہسپتال کی رپورٹس میں بتایا جا رہا تھا کہ سابق آرمی چیف کی صحت کا کوئی بڑا مسئلہ سامنے نہیں آیا ہے البتہ وہ ذہنی دباو میں ہیں اور انہیں مزید آرام کی ضرورت ہے۔

امراض قلب کے فوجی ہسپتال کی انتظامیہ نے اگرچہ اپنی سربمہر رپورٹ میں سابق صدر کے بیرون ملک علاج کے ضروری ہونے کا واضح اشارہ تو نہیں دیا تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ بیک وقت دل اور گردوں کے امراض کا شکار مریضوں کے علاج کیلیے قدرے مشکلات اور رسک ہوتا ہے۔ اس لیے اگر ضروری ہوا تو پرویز مشرف کو باہر جانا پڑ سکتا ہے۔

آخری اطلاعات کے مطابق خصوصی عدالت میں پیش کردہ رپورٹ پر ابھی بحث ہو گی تاہم پاکستان کی عدالتی تاریخ کے سب سے بڑے ملزم پرویز مشرف کے وکلاء نے عدالت کے دائرہ اختیار کو اپنے دلائل کے دوران چیلنج کیا۔ عدالت کی سماعت بدھ کے روز تک ملتوی کر دی گئی ہے جبکہ فوجی ہسپتال کی طرف سے پیش کردہ رپورٹ کا تفصیلی جائزہ 9 جنوری کو جمعرات کے روز لیا جائے گا۔