.

پاکستانی قیادت سے مشرف کے معاملے پر بات نہیں ہوئی: سعود الفیصل

"سعودی عرب توانائی کے شعبے میں پاکستان میں سرمایہ کاری کرے گا"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے کہا ہے کہ ان کا ملک توانائی کے شعبے میں پاکستان میں سرمایہ کاری کرے گا۔ پاکستان کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون جاری رہے گا۔ افغانستان میں دہشت گردوں کو دوبارہ منظم نہ ہونے دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان قیادت کے ساتھ ملاقات میں سابق صدر پرویز مشرف کا معاملہ زیر بحث نہیں آیا. پرویز مشرف پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے اور سعودی عرب دوسرے ملکوں بالخصوص دوست ملکوں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پر کاربند ہے۔

خادم الحرمین الشریفین کا پیغام

پاکستانی وزیر اعظم میاں نواز شریف کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کے ہمراہ دفتر خارجہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل کا کہنا تھا کہ خادم الحرمین شریفین کی جانب سے پاکستانی قیادت کیلئے خصوصی پیغام لایا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت ممنون حسین اور وزیر اعظم محمد نواز شریف کے ساتھ ہونے والی ملاقات انتہائی سود مند رہی۔ علاقائی صورتحال پر پاکستان کیساتھ تعاون جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری

شہزادہ سعود الفیصل کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔ سعودی عرب کی ہمیشہ کوشش رہی کہ پاکستان کیساتھ تجارت اور دیگر شعبوں میں تعاون جاری رہے۔ سعودی عرب توانائی کے شعبے میں پاکستان میں سرمایہ کاری کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ اور تاریخی تعلقات ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ تعلقات کو خراب کرنے کی سازشوں ناکام بنانا چاہیے۔ دہشتگردی پر قابو پانے کیلئے سعودی عرب اور پاکستان کو ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے۔ ایک کمیٹی ہونی چاہیے جو دونوں ممالک کے معاملات کا جائزہ لے۔

افغانستان اور فلسطین۔اسرائیل تنازع

افغانستان کی صورتحال بارے گفتگو کوتے ہوئےان کا کہنا تھا کہ امریکی اور نیٹو افواج رواں سال افغانستان سے نکل جائیں گی۔ ''دہشت گردوں کو افغانستان میں دوبارہ منظم نہ ہونے دیا جائے''۔ دہشتگردی کے ناسور کو ختم کرنے کیلئے مشترکہ کوششیں کرنا چاہیں۔ سعودی عرب خطے میں عدم مداخلت پر یقین رکھتا ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب میں سعود الفیصل کا کہنا تھا کہ فلسطین اور اسرائیل کے تنازع کا حل صرف مذاکرات ہیں لیکن اسرائیل کی جانب سے ہر مرتبہ مذاکرات کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے اس اہم مسئلے پر کوئی بھی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ اسرائیل، فلسطین میں غیر قانونی تعمیرات جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام کے مستقبل کے بارے میں صدر بشار الاسد کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔ مصر کو سعودی عرب کی جانب سے دی جانے والی امداد کے بارے میں سوال پر سعودی وزیر خارجہ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ 'یہ ہمارا اور مصر کا معاملہ ہے، اسے یہاں منکشف کرنا ضروری نہیں۔"

پرویز مشرف کی رہائی؟

سابق صدر پرویز مشرف بارے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ''پاکستان قیادت کے ساتھ ملاقات میں سابق صدر پرویز مشرف کا معاملہ زیر بحث نہیں آیا. پرویز مشرف پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے''. اس موقع پر گفتگو کوتے ہوئے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ وزیراعظم محمد نواز شریف نے سعودی وزیر خارجہ کو معاشی منصوبوں سے آگاہ کیا۔ معاشی ترقی کیلئے سعودی عرب کے تعاون کی قدر کرتے ہیں۔