.

پشاور:تبلیغی جماعت کے مرکز میں بم دھماکا،8 افراد جاں بحق

67 زخمی لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل،بعض کی حالت تشویش ناک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں تبلیغی جماعت کے مرکز میں جمعرات کی شب ایک زوردار بم دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں آٹھ افراد جاں بحق اور کم سے کم ستر زخمی ہوگئے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق تبلیغی مرکز میں نماز مغرب کے وقت دھماکا ہوا ہے۔اس وقت شب جمعہ کے اجتماع میں شرکت کے لیے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے سیکڑوں افراد تبلیغی مرکز میں موجود تھے۔

بم دھماکے کے فوری بعد امدادی کارروائیاں شروع کردی گئیں اور مرنے والوں کی لاشوں اور زخمیوں کو پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے۔صوبائی وزیرصحت شوکت یوسف زئی نے آٹھ ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ سڑسٹھ افراد زخمی ہیں۔ان میں سے بعض کی حالت تشویش ناک ہے جس کے پیش نظر ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

بم ڈسپوزل اسکواڈ کے ایک سینیر افسر شفقت ملک نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ بم گھی کے ایک کنستر میں رکھا گیا تھا اور اس کو ایک ٹائم ڈیوائس کے ذریعے اڑایا گیا ہے۔ ان کے بہ قول دھماکے لیے پانچ کلو گرام دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا ہے۔

ایک انٹیلی جنس افسر کا کہنا ہے کہ بم سونے کے بستر میں چھپا کر تبلیغی مرکز میں لایا گیا تھا اور اس کو کہیں بھی رکھا جانا تھا لیکن وہ دھماکے سے پھٹ گیا۔پولیس نے دھماکے کی تحقیقات شروع کردی ہے۔فوری طور پر کسی گروپ نے اس دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی۔

ایک عینی شاہد حنیف کے مطابق مغرب کی فرض نماز کی ایک رکعت ادا کی جاچکی تھی کہ اس دوران بم دھماکا ہوگیا جس میں بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوگئے۔تبلیغی مرکز میں شبِ جمعہ کے ہفتہ وار خصوصی اجتماع میں شرکت کے لیے مختلف علاقوں سے تبلیغی جماعتیں آتی ہیں اور رات وہیں قیام کرتی ہیں۔پاکستان کے صدر ،وزیراعظم اور مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین نے اس بم دھماکے کی مذمت کی ہے اور اس میں انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

درایں اثناء بم ڈسپوزل حکام نے صوبے کے ایک اور شہر نوشہرہ میں تبلیغی مرکز کے باہر رکھے بم کو عین اس وقت ناکارہ بنایا ہے جس لمحے پشاور میں بم دھماکا ہوا تھا۔یہ بم بھی پانچ کلو وزنی تھا اور اس کو تبلیغی مرکز کے طور پر استعمال ہونے والی مسجد کے مرکزی دروازے کے باہر نصب کیا گیا تھا لیکن حکام نے اس کو نماز مغرب کے وقت پھٹنے سے پہلے ہی ناکارہ بنا دیا۔