.

پاکستان میں دہشت گردی، پولیس اور لیویز کے 12 اہلکار جاں بحق

پولیس اہلکار پولیو ٹیم اور بلوچستان لیویز سیاح کی حفاظت پر مامور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان جہاں پچھلے ایک ہفتے سے عسکریت پسندوں کی کارروائیوں اور ان کے خلاف مہم میں تیزی کے دوران لگ بھگ سوا سو سے زائد ہلاکتیں ہو گئی ہیں۔ بدھ کے روز پھر صبح سویرے دہشت گردی کے واقعات پیش آئے ہیں ۔

دہشت گردی کا پہلا واقعہ صوبہ خیبر پختونخوا میں پیش آیا جہاں نامعلوم دہشت گردوں نے پولیو کارکنوں کی مہم کو تحفظ دینے کیلیے جانے والی پولیس وین پر حملہ کر دیا۔ جس کے نتیجے میں چھ پولیس اہلکار اور ایک بچہ جاں بحق ہو گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت ہوا جب پولیس وین پولیو کارکنوں کی طرف جا رہی تھی کہ سر دھیڑی کے بازار میں نصب کیے گئے بم کا ریموٹ کے ذریعے دھماکہ کر دیا گیا۔

دھماکے سے پولیس وین مکمل طور پر تباہ اور اس پر سوار چھ اہلکار جاں بحق ہو گئے۔ جبکہ اس دوران ایک بچہ بھی دھماکے کی زد میں آکر جاں بحق ہو گیا ہے۔ دھماکے میں کم از کم چار افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ملی ہے۔ زخمیوں کو فوری طور چارسدہ کے سرکاری ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے چارسدہ میں حالیہ چند دنوں میں تین دھماکے ہو چکے ہیں، تاہم بدھ کے روز کا دھماکہ سب سے زیادہ نقصان کا باعث بنا ہے۔ اس دھماکے کے فوری بعد سکیورٹی حکام نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کے دوران بعض مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

ایک روز قبل پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پولیو مہم کے دوران نامعلوم مسلح دہشت گردوں نے تین پولیو ورکرز کو ہلاک اور ایک زخمی کر دیا تھا۔ پاکستان میں پیر کے روز سے پورے ملک میں پولیو مہم کا آغاز کیا گیا ہے، تاہم صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاورکے علاوہ ہری پور اور چترال میں اس مہم کو سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر موخر رکھا گیا ہے۔

پاکستان میں بدھ کے روز دہشت گردی کا دوسرا بڑا واقعہ شورش زدہ صوبہ بلوچستان میں پیش آیا جہاں لیویز اہلکار ایک سائیکل سوار غیر ملکی سیاح کی حفاظت پر مامور تھے۔ اس واقع میں چارسدہ کی طرح ہلاکتوں کی مجموعی تعداد سات ہے تاہم مرنے والوں میں ایک حملہ آور بھی شامل ہے۔

غیر ملکی سیاح ایران کے راستے صوبہ بلوچستان پہنچ کر سخت شورش زدہ علاقے مستونگ سے سائیکل پر گزر رہا تھا پر کہ حملہ آورروں نے حملہ کیا ۔ بظاہر یہ حملہ علیحدگی پسند تنظیم بی ایل اے کی طرف سے کیا گیا لگتا ہے جس کے اہم ترین رنما مغربی ممالک میں مقیم ہیں۔ حملہ آوروں کی فائرنگ سے غیر ملکی سیاح زخمی جبکہ اس کی حفاظت پر مامور چھ لیویز اہلکار جاں بحق اور دس زخمی ہو گئے۔

زخمیوں کو فوری طور ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ لیویز کی مدد کیلیے ایف سی کے اہلکار بھی موقع پر پہنچ گئے ہیں البتہ حملہ آوروں کی اکثریت موقع سے فرار ہو کر قریبی پہاڑوں میں چھپ گئی ہے۔

واضح رہے اسی علاقے میں منگل کے روز ایران سے واپس آنے والے شیعہ زائرین کی بس پر بم دھماکہ کر کے دو درجن افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ ہلاک ہونے والے شیعہ زائرین کی میتوں کے ساتھ وحدت المسلمین نے آج دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔ ان دنوں مستونگ اور حضدار خصوصی طور پر دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں۔