.

توہین رسالت کے جرم میں برطانوی شہری کو سزائے موت

عدالتی فیصلے پر انسانی حقوق کی تنظیم 'ایمنسٹی' کا اظہار افسوس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے شہر راولپنڈی میں ایک عدالت نے 70 سالہ برطانوی شہری کو توہینِ رسالت کے جرم میں موت کی سزا سنائی ہے۔

محمد اصغر نامی اس شخص کو سن 2010ء میں دارالحکومت اسلام آباد کے قریبی شہر راولپنڈی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس پر الزام تھا کہ وہ خود کو پیغمبر اسلام قرار دیتا ہے۔ وکیل استغاثہ جاوید گل کے مطابق اس حوالے سے محمد اصغر کے خطوط بعد میں عدالت میں پیش کیے گئے تھے، جن میں اس نے یہ دعویٰ کیا تھا۔ تاہم محمد اصغر کے سابق وکیل کے مطابق اصغر ذہنی بیماریوں کا شکار ہے اور اس پر الزام دراصل جائیداد کے ایک جھگڑے کی وجہ سے عائد کیا گیا تھا۔ تاہم وکیل استغاثہ گل نے بتایا کہ پاکستانی نژاد برطانوی شہری محمد اصغر پر جمعرات کے روز جرم ثابت ہوا۔

ایڈنبرا میں محمد اصغر کا علاج کرنے والے ڈاکٹر کے مطابق جون سن 2011ء میں ایک خط میں محمد اصغر نے لکھا کہ پاکستانی اور برطانوی حکومتیں اسے کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ محمد اصغر کے وکیل نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وہ خط بھی دکھایا، تاہم توہین مذہب اور رسالت کے معاملے میں پرتشدد کارروائیوں کی بنا پر اس وکیل نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے پر اصرار کیا۔ خیال رہے کہ مقدمے کی سماعت کے دوران وکلاء کے درمیان محمد اصغر کی ذہنی صحت کا معاملہ بھی متنازعہ بنا رہا۔

محمد اصغر کو سزائے موت سنائے جانے پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے پیسیفک کے خطے کے ڈپٹی ڈائریکٹر پولی ٹروسکوٹ نے محمد اصغر کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا، ’ایک ایسے موقع پر جب پاکستان میں مذہبی جذبات کا سہارا لے کر ذاتی جھگڑوں کے لیے اس قانون کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے، اس قانون میں ترمیم کی شدید اور فوری ضرورت ہے۔‘

ادھر اسلام آباد میں برطانوی سفارت خانے کی جانب سے بھی محمد اصغر کے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اس سلسلے میں اصغر کی قانونی مدد کی گئی اور حکومت سے بھی اس معاملے پر بات چیت کی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں ہر سال درجنوں افراد توہین مذہب اور توہین رسالت کے مقدمات میں گرفتار کیے جاتے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنان کے مطابق عمومی طور پر اس قانون کو ذاتی عناد اور جھگڑوں کے تناظر میں استعمال کیا جاتا ہے، جس کا سب سے زیادہ نشانہ ملک میں موجود اقلیتیں بنتی ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق کئی مواقع پر کسی شخص پر صرف الزام عائد کر دیے جانے پر مشتعل ہجوم کے ہاتھوں ایسے افراد کے سرعام قتل کے درجنوں واقعات بھی رونما ہو چکے ہیں۔ اس قانون میں ترمیم کے حوالے سے شدید عوامی ردعمل کے باعث کسی سیاسی رہنما کی جانب سے اس قانون میں اصلاحات کے حوالے سے کوئی بیان بھی سامنے نہیں آتا۔ سن 2011ء میں اس قانون میں ترمیم کے حوالے سے صوبہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر نے آواز اٹھائی تھی، تاہم انہیں ان کے اپنے محافظ نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔