.

پاکستانی طالب علم ورلڈ اکنامک فورم کے سب سے کم عمر مندوب

اکیس سالہ عمر جہانگیر نے مفت دوا فراہم کرنے کا نیا ہدف قائم کیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ورلڈ اکنامک فورم کے دروازے سب کے لیے عام طور پر آسانی سے نہیں کھلتے۔

پاکستان سے تعلق رکھنے والے میڈیکل طالب علم عمر انور جہانگیر نے نہ صرف اس دروازے کو وا کیا بلکہ اس فورم کے مخصوص فورم ’گلوبل شیپر‘ یعنی دنیا کو نئی شکل و سمت عطا کرنے والے لوگوں میں بھی شامل ہو گئے۔ واضح رہے کہ اس میں دنیا کے بہترین 50 نوجوان تیز ذہنوں کو شامل کیا جاتا ہے۔

اکیس سالہ عمر جہانگیر نے ساتھی طالب علموں کے ساتھ مل کر کراچی میں ’بحریہ میڈكس‘ نام کی ایک تنظیم بنائی ہے جو طبی میدان میں فلاحی کام کرتی ہے۔

عمر انور بحریہ کے اہم پالیسی ساز اور منتظم ہیں۔ اس کے تمام کاموں مثلا بلڈ بینک کے قیام، میڈیکل کیمپ انتظام اور ادارے کے لیے مداد حاصل کرنے میں وہ پیش پیش رہتے ہیں۔ بحریہ میڈکس کے علاوہ عمر ملازمت کے بارے میں تربیت فراہم کرنے والی 'رومی سٹرٹیجیز' نامی کمپنی کے سی ای او بھی ہیں۔

عمر انور کے والد پاکستان ٹیلی ویژن میں بطور ایڈمنسٹریٹر خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ڈاکٹر بن کر پبلک سیکٹر میں ہی خدمات جاری رکھیں گے۔ انہوں اپنے منفرد منصوبے بحریہ میڈکس کا انتظامی کنڑول پہلے ہی دوسرے طالب علم ساتھیوں کے حوالے کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ وہ تعلیم سے فارغ ہو کر بھرپور عوامی خدمت سرانجام دے سکیں۔