.

پرویز مشرف کی بیرون ملک علاج کے لیے درخواست مسترد

7 فروری کو عدالت میں پیشی اور 25 لاکھ روپئے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سابق مطلق العنان صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے انھیں بیرون ملک علاج کے لیے جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے اور انھیں سات فروری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

جمعہ کو جب جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں خصوصی عدالت میں سابق صدر کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو ان کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کو بیرون ملک خصوصی علاج کی ضرورت ہے۔

ریٹائرڈ جنرل مشرف کے خلاف 3نومبر2007ء کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ ،آئین معطل کرنے اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو نظربند کرنے کے اقدامات پر آئین کی دفعہ چھے کے تحت غداری کے مقدمے کی سماعت کی جارہی ہے۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ آئین توڑنے پر کسی فوجی صدر کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

آج صبح جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی عدالت نے سماعت شروع کی تو اس نے سابق صدر کی میڈیکل رپورٹ ملاحظہ کرنے کے بعد اس کے بارے میں اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔بعد میں عدالت نے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے انھیں بیرون ملک جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ''پرویز مشرف کی پیش کردہ میڈیکل رپورٹ میں کہیں نہیں لکھا کہ وہ عدالت میں حاضر نہیں ہوسکتے ہیں۔اب اس کے بعد ان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے''۔پھر عدالت نے ان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اور ضمانتی مچلکے کی مالیت پچیس لاکھ روپئے مقرر کی ہے۔

عدالت نے سابق صدر کی بیرون ملک علاج کے لیے درخواست بھی مسترد کردی اور قراردیا کہ ان کی درخواست قابل سماعت نہیں ہے اور انھیں بیرون ملک علاج کے لیے جانے کی اجازت دینا بھی اس کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔

تاہم عدالت کا کہنا تھا کہ سابق صدر کی نقل وحرکت پر کوئی پابندی نہیں ہے۔البتہ اس نے خبردار کیا کہ اگر وہ آیندہ سماعت پر عدالت میں پیش نہ ہوئے تو پھر ان کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے جائیں گے۔واضح رہے کہ سابق پاکستانی صدر کا نام وزارت داخلہ کی ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل )میں شامل ہے اور وہ حکومت پاکستان کی اجازت کے بغیر بیرون ملک نہیں جاسکتے۔

عدالت نے اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس کو پرویز مشرف کے خلاف جاری کردہ وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد یقینی بنانے کا حکم دیا ہے اورانھیں سات فروری کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت آیندہ جمعہ تک ملتوی کردی ہے۔

ستر سالہ سابق صدر کو 2 جنوری کو اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ سے خصوصی عدالت میں پیشی کے لیے لایا جارہا تھا لیکن راستے میں اچانک ان کے دل میں تکلیف شروع ہوگئی اور ان کا رنگ پیلا پڑجانے کے بعد انھیں راول پنڈی میں واقع مسلح افواج کے زیرانتظام امراض قلب کے اسپتال لے جایا گیا تھا جہاں ان کے مختلف ٹیسٹ لیے گئے تھے اور یہ بتایا گیا تھا وہ عارضہ قلب میں مبتلا ہوگئے ہیں وہ تب سے آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں زیر علاج ہیں۔

سابق مطلق العنان صدر کے اچانک بیمار پڑجانے کے بعد سے میڈیا میں مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں اور یہ کہا جارہا ہے کہ طبی وجوہ کی بنا پر ان کی پاکستان سے سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات رخصتی ہوسکتی ہے ہےلیکن اب تک فوج یا حکومت کی جانب سے ایسے کوئی اشارے نہیں دیے گئے جس سے یہ ظاہر ہو کہ سابق فوجی صدر کو بیرون ملک روانہ کیا جارہا ہے۔

پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ غداری ایکٹ مجریہ 1973ء کے تحت چلایا جارہا ہے۔اس کے تحت انھیں قصوروار ثابت ہونے پر عمر قید یا موت کی سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔آئین کی دفعہ چھے میں بھی اس سنگین جرم کی یہی سزا مقرر ہے۔ان کے خلاف اس مقدمے کی سماعت تین رکنی خصوصی عدالت کررہی ہے۔اس کے سربراہ عدالتِ عالیہ سندھ کے جج جسٹس فیصل عرب ہیں۔عدالتِ عالیہ لاہور کے جج یاور علی خان اور بلوچستان ہائی کورٹ کی خاتون جج طاہرہ صفدر اس کی رکن ہیں۔

ان کے خلاف اس سے پہلے سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی دسمبر 2007ء میں بم دھماکے میں ہلاکت سمیت چار فوجداری مقدمات چلائے جارہے ہیں۔ان چاروں مقدمات میں ان کی ضمانت منظور ہوچکی ہے اور عدالت نے ضمانتی مچلکے جمع کروانے پر انھیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔