.

حکومت اور طالبان کی نامزد کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس طلب

طالبان کی مذاکرات کے لیے نامزد کمیٹی کی مولانا سمیع الحق کی سربراہی میں ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حکومت پاکستان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی امن مذاکرات کے لیے نامزد کردہ کمیٹیوں کا پہلا اجلاس منگل کو اسلام آباد میں ہوگا۔

حکومتی ذرائع نے بتایا کہ اس افتتاحی اجلاس میں امن مذاکرات کے حوالے سے لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ حکومت کے مذاکرات کار عرفان صدیقی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں کمیٹیوں کا منگل کو دوپہر دو بجے اسلام میں اجلاس ہوگا۔

قبل ازیں سوموار کو ٹی ٹی پی کی جانب سے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے نامزد کردہ پانچ رکنی کمیٹی کا اسلام آباد میں اجلاس ہوا ہے۔طالبان نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے جمعیت علماء اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق،جماعت اسلامی کے رہ نما پروفیسر محمد ابراہیم،لال مسجد اسلام آباد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز ،پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور جمعیت العلماء اسلام (ف) کے سابق رکن اسمبلی مفتی کفایت اللہ کو ہفتے کے روز نامزد کیا تھا۔

اس کمیٹی کے پہلے اجلاس میں اول الذکر تین ارکان شریک ہوئے ہیں۔عمران خان اپنی جماعت پی ٹی آئی کے ایک اجلاس میں شریک تھے اور مفتی کفایت اللہ نے بوجوہ اجلاس میں شرکت نہیں کی۔

درایں اثناء پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے طالبان کی نامزد کردہ کمیٹی سے دستبرداری کا اعلان کیا ہے۔ان کی جماعت کی صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت ہے اور وہ ملک کے شمال مغربی علاقوں میں قیام امن کے لیے طالبان سے مذاکرات کی زورشور سے حمایت کرتے رہے ہیں۔

دوسری جانب جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی مذاکرات کے اس عمل کا حصہ نہ بننے کا اعلان کیا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان کے وزیراعظم میاں نوازشریف نے گذشتہ ہفتے طالبان جنگجوؤں کے ساتھ دہشت گردی کے حالیہ حملوں کے باوجود امن بات چیت کا اعلان کیا تھا اور اس مقصد کے لیے ایک چار رکنی کمیٹی قائم کی ہے۔

حکومت کی مقرر کردہ کمیٹی میں وزیراعظم کے قومی امور پرمشیراور معروف کالم نگار عرفان صدیقی ،معروف تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی ،سابق سفیر اور افغان امور کے ماہر رستم شاہ مہمند اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق اہلکار ریٹائرڈ میجر عامر شاہ شامل ہیں۔

وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان اس کمیٹی کی معاونت کریں گے اور وزیراعظم میاں نواز شریف خود اس کمیٹی کی کارکردگی کی نگرانی کریں گے۔رستم شاہ مہمند کو کمیٹی میں صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت کی سفارش پر شامل کیا گیا ہے اور ایک طرح سے وہ صوبے کی حکمراں پاکستان تحریک انصاف کی نمائندگی کریں گے۔

میاں نواز شریف نے گذشتہ بدھ کو پارلیمان کے ایوان زیریریں قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے طالبان جنگجوؤں سے کہا تھا کہ وہ جنگ بندی کی پاسداری کریں۔انھوں نے کہا کہ وہ مخلصانہ انداز میں ملک میں قیام امن کے لیے کوشاں ہیں۔انھوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ دوسرا فریق بھی اسی انداز میں ردعمل ظاہر کرے گا۔

ان کی اس تقریر سے قبل یہ قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ وہ مسلح افواج کو طالبان جنگجوؤں کے خلاف بھرپور طاقت کے استعمال کا حکم دیں گے اور اس سلسلے میں ان پر بعض حلقوں کی جانب سے دباؤ بھی ڈالا جارہا تھا لیکن انھوں نے کسی فوجی کارروائی سے قبل ایک مرتبہ پھر امن مذاکرات کو ایک اور موقع دینے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا تو تمام ریاستی ادارے حکومت کا ساتھ دیں گے۔