.

امریکا نے پاکستان پر ڈرون حملوں میں کمی کر دی، واشنگٹن پوسٹ

امریکی انتظامیہ کا ایسے کسی اقدام سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے بالآخر پاکستان میں ڈرون میزائل حملوں میں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ امریکی فیصلہ حکومت پاکستان کے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے ان کوششوں کے جواب میں سامنے آیا ہے جو پاکستان نے امریکی ڈرون حملے رکوانے کیلیے کی تھیں، تاکہ مذاکراتی عمل میں پہلے کی طرح پھر رخنہ نہ آئے۔

امریکی میڈیا کے ذریعے سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں 2004 سے جاری ان حملوں میں ماہ دسمبر سے کمی کی گئی ہے۔ امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ '' اس سلسلے میں پاکستان نے درخواست کی تھی اور ہم نے انہیں انکار نہیں کیا تھا۔''

واضح رہے 2011 ڈرون حملوں کے حوالے سے سب سے اہم اور خطرناک رہا ہے، اخباری رپورٹس کے مطابق اوباما انتظامیہ نے یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ القاعدہ کیخلاف ڈرون حملے جاری رہیں گے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی انتطامیہ کے حکام نے ایسے کسی غیر رسمی بندوبست کی تردید کی ہے کہ امریکا نے پاکستان کے ساتھ ڈرون حملوں میں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔ ان حکام کے کہنا ہے کہ '' طالبان کے ساتھ پاکستان کے مذاکرات خالصتا پاکستان کا اندرونی معاملہ ہیں۔''

دوسری جانب بعض پاکستانیوں نے ڈرون حملوں میں کمی کا خیر مقدم کیا ہے۔ اس سے پہلے وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ ڈرون حملوں کی بندش چاہتے ہیں۔

واضح رہے امریکی ڈرون حملے کے ذریعے ماہ نومبر کے دوران تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کو نشانہ بنایا گیا اور اسی مہینے میں صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں ڈرون حملہ کیا گیا۔ان حملوں کے بعد صوبہ خیبر کی حکمران اتحاد تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے سخت احتجا کرتے ہوئے ںیٹو سپلائی کو روک دیا تھا۔ ان امریکی حملوں میں سینکڑوں بےگناہ شہری بھی مارے گئے ہیں۔

اب چند ہفتوں سے ڈرون حملوں میں کمی کے ماحول میں حکومت پاکستان اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان مذاکرات کی تیاری ہے۔ دونوں جانب سے مذاکراتی کمیٹیاں بنا دی گئی ہیں جو آئندہ دنوں ملنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔