.

کشمیریوں کی بھارت سے آزادی کیلیے آج یوم یکجہتی کشمیر ہے

پاکستان اور آزاد کشمیر سمیت دیگر ممالک میں بھی ریلیاں ہوں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا میں ڈیڑھ کروڑ کی تعداد کو چھونے والی کشمیری آبادی کی اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق آزادی کی حمایت کرنے کیلیے پاکستان، آزادریاست جموں و کشمیر، اور دنیا کے دیگر گوشوں میں یوم یکجہتی منایا جا رہا ہے۔ کشمیری عوام پچھلے تقریبا 65 برسوں سے بھارت سےآزادی لینے کیلیے جدو جہد کر رہے ہیں۔

اب تک بھارتی زیر انتظام کشمیر جسے کشمیری عوام اقوام متحدہ کی قراردادوں اور مسلمہ عالمی اصولوں کے باعث مقبوضہ کشمیر قرار دیتے ہیں آزادی کی جہد کے دوران دسیوں ہزار کشمیری موت سے دوچار ہو چکے ہیں۔ صرف 1990 کی دہائی کے دوران ایک لاکھ سے زائد کشمیری بھارتی فوج کی کارروائیوں کے دوران شہید ہو چکے ہیں۔

کشمیریوں کےساتھ یکجہتی کا دن منا نے کی روایت 25 سال پہلے سے اسوقت سے جاری ہے جب 1989 کے دوران پاکستان کے ایوان صدر میں پیپلزپارٹی کے صدر فاروق لغاری بطور صدر موجود تھے اور سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں اسلامی جمہوری اتحاد کی حکومت تھی ۔ تو اسلامی جمہوری اتحاد کے مرکزی رہنما اور جماعت اسلامی پاکستان کے امیر قاضی حسین احمد کی کوششوں سے مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے پہلی مرتبہ مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کیلیے اس دن کا تعین کیا۔

تب سے اب تک گذرنے والے 25 برسوں میں کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی منانے کی یہ روایت پختہ تر ہوتی گئی ہے۔ اس موقع پر ہر سال پاکستان سمیت آزاد ریاست جموں و کشمیر میں مکمل تعطیل کی جاتی ہے تاکہ شہری کشمیریوں کے حق میں منعقد کی جانے والی ریلیوں اور تقریبات میں شرکت کر سکیں۔

پاکستان سے باہر جہاں بھی پاکستانی اور کشمیری موجود ہیں پانچ فروری کی مناسبت سے اظہار یکجہتی کیلیے تقریبات، سیمینار اور ریلیاں منعقد کرتے ہیں۔ پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں بشمول وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ ہر جگہ قومی قائدین کشیریوں کے حق میں منعقدہ ریلیوں میں عوام کے شانہ بشانہ ہوتے ہیں۔

آج بھی اس سلسلے میں مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں اور این جی اوز نے ایسی ہی ریلیوں کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ اس موقع پر پاکستان اور آزاد کشمیر میں غیر معمولی طور پر اتحاد اور یگانگت کا ماحول ہوتا ہے ۔ سیاسی تقسیم اور پارٹیوں سے بالا تر ہو کر ہر سیاسی جماعت کا وابستگان کشمیر کی ازادی کیلیے آواز بلند کرتے ہیں۔

آزاد کشمیر اسمبلی اور کشمیر کونسل کا خصوصی اجلاس منعقد کیا جاتا ہے، عام طور پر پاکستان کی اعلی ترین حکومتی شخصیات بھی آزاد کشمیر اسمبلی سے خطاب کیلیے مظفر آباد پہنچتی ہیں۔ جبکہ دوسری جانب بھارتی زیر انتظام کشمیر میں بھارتی فوج اور دیگر پیرا ملٹری فورسز کشمیروں کی ریلیوں کو کچلنے کیلیے بھاری تعداد میں نفری تعینات کر دی جاتی ہیں۔