.

حکومتی اور طالبان ٹیم کا''خوشگوار ماحول'' میں پہلا اجلاس

''مذاکرات آئین کے فریم ورک اور دائرہ کار شورش زدہ علاقوں تک محدود رہنا چاہیے''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حکومت پاکستان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی نامزد کردہ کمیٹیوں کا پہلا اجلاس جمعرات کو اسلام آباد میں ہوا ہے جس میں انھوں نے مستقبل میں بات چیت کے لائحہ عمل کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

خیبرپختونخوا ہاؤس میں منعقد ہونے والا یہ اجلاس کوئی چار گھنٹے جاری رہا۔اس کے بعد میڈیا کے لیے طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے ایک مشترکہ بیان پڑھ کر سنایا۔اس میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریقوں کی خوشگوار ماحول میں ملاقات ہوئی ہے۔

حکومتی کمیٹی نے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ ''مذاکرات آئین کے فریم ورک میں رہتے ہوئے ہونے چاہئیں اور ان کا دائرہ کار صرف پاکستان کے شورش زدہ علاقوں تک محدود رہنا چاہیے''۔

حکومتی کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ امن کوششوں پر (منفی انداز میں) اثر انداز ہونے والی تمام سرگرمیوں کو روکا جانا چاہیے اور مذاکرات مختصر ٹائم فریم میں پایہ تکمیل کو پہنچنے چاہئیں۔

حکومتی مذاکرات کاروں نے طالبان کی دس رکنی کی نگران کمیٹی اور تین رکنی مذاکراتی کمیٹی دونوں کی اتھارٹی اور دائرہ کار کے بارے میں بھی وضاحت طلب کی ہے۔

دوسری جانب پاکستانی طالبان کی مذاکراتی کمیٹی نے حکومت سے اس کی چاررکنی مذاکراتی کمیٹی کے مینڈیٹ اور اس کی امن معاہدے کے نفاذ سے متعلق اتھارٹی اور صلاحیت کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے۔

طالبان کی ٹیم نے پاکستانی وزیراعظم میاں نواز شریف ،آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل سے اپنی ملاقاتیں کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔واضح رہے کہ اس مشترکہ بیان کے بعد صحافیوں کو مذاکراتی کمیٹیوں کے ارکان سے سوالوں کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

حکومت کی مذاکراتی ٹیم کی منگل کو طالبان جنگجوؤں کے نامزد کردہ مذاکرات کاروں سے پہلی ملاقات طے تھی لیکن اس نے یہ کہہ کر ملنے سے انکار کردیا تھا کہ اسے ان کی ہئیت ترکیبی کے بارے میں کنفیوژن ہے۔تاہم حکومتی کمیٹی کے رکن اور وزیراعظم کے مشیر عرفان صدیقی نے ایک روز بعد کہا کہ ٹی ٹی پی کی مذاکراتی ٹیم کے بارے میں ابہام دور ہوگئے ہیں۔

طالبان نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے جمعیت علماء اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق،جماعت اسلامی کے رہ نما پروفیسر محمد ابراہیم،لال مسجد اسلام آباد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز ،پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور جمعیت العلماء اسلام (ف) کے سابق رکن اسمبلی مفتی کفایت اللہ کو ہفتے کے روز نامزد کیا تھا۔

عمران خان اور مفتی کفایت اللہ اس کمیٹی سے دستبردار ہوگئے تھے جس کے بعد طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ حکومت کو اب مولانا سمیع الحق کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی سے ہی مذاکرات کرنا ہوں گے اور اس کمیٹی کو طالبان کا مکمل اعتماد حاصل ہے۔