طالبان کے مذاکرات کار کا شریعت کو آئین بنانے کا مطالبہ

مولانا عبدالعزیز کی پاکستانی آئین کے تحت امن مذاکرات کا حصہ بننے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن مولانا عبدالعزیز نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے عمل کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ آیندہ مذاکرات کا حصہ نہیں بنیں گے۔

مولانا عبدالعزیز نے جمعہ کو اسلام آباد میں نیوزکانفرنس کے دوران حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ آئین کے تحت مذاکرات کی شرط کو ختم کرے۔انھوں نے کہا کہ ''اگر قرآن وسنت ہمارا آئین ہوتے تو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔اب طالبان کا کہنا ہے کہ وہ ملک کے موجودہ آئین کو تسلیم نہیں کرتے''۔

انھوں نے کہا کہ لوگوں کو آئین کے حوالے سے گمراہ نہیں کیا جانا چاہیے کہ ہمارا آئین اسلامی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا آئین قرآن اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے تبدیل کیا جانا چاہیے۔

مولانا عبدالعزیز نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ''شریعت کو پاکستان کا قانون ہونا چاہیے اور جب تک کمیٹی اس نکتے کو مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل نہیں کرتی،اس وقت تک میں مذاکرات کا حصہ نہیں بنوں گا''۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ طالبان کی نامزد کردہ کمیٹی کا تو حصہ رہیں گے لیکن مذاکرات کی میز پر نہیں آئیں گے۔

حکومت پاکستان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی نامزد کردہ کمیٹیوں کا پہلا اجلاس جمعرات کو اسلام آباد میں ہوا تھا جس میں انھوں نے مستقبل میں مذاکرات کے لائحہ عمل کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا تھا۔اس اجلاس میں حکومتی کمیٹی نے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ ''مذاکرات آئین کے فریم ورک میں رہتے ہوئے ہونے چاہئیں اور ان کا دائرہ کار صرف پاکستان کے شورش زدہ علاقوں تک محدود رہنا چاہیے''۔

حکومتی مذاکرات کاروں نے طالبان کی دس رکنی کمیٹی اور تین رکنی مذاکراتی کمیٹی دونوں کی اتھارٹی اور دائرہ کار کے بارے میں بھی وضاحت طلب کی تھی جبکہ طالبان کی مذاکراتی کمیٹی نے حکومت سے اس کی چاررکنی مذاکراتی کمیٹی کے مینڈیٹ اور اس کی امن معاہدے کے نفاذ سے متعلق اتھارٹی اور صلاحیت کے بارے میں وضاحت طلب کی تھی۔

اب مولانا عبدالعزیز کی جانب سے نئی شرائط منظرعام پر آنے کے بعد مذاکرات کا عمل خطرات سے دوچار نظر آرہا ہے۔دوروز پہلے انھوں نے اور ان کے ساتھی مولانا سمیع الحق نے کہا تھا کہ ''ملک میں حکومت کی جانب سے شریعت کے نفاذ اور پڑوسی ملک افغانستان سے امریکا کی قیادت میں غیرملکی فوجوں کے انخلاء کے بغیر امن قائم نہیں ہوگا''۔

ٹی ٹی پی کی نامزد کردہ تین رکنی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''اگر سرحد پار امریکی فوجی موجود رہتے ہیں تو خطے میں کوئی امن قائم نہیں ہوسکتا''۔

ان کے اس بیان کی ٹی ٹی پی کے ایک اور مذاکرات کار مولانا عبدالعزیز نے بھی تائید کی تھی۔انھوں نے کہا کہ'' شریعت کے نفاذ کے بغیر طالبان مذاکرات کو ایک فی صد بھی قبول نہیں کریں گے''۔انھوں نے کہا کہ اگر طالبان کے بعض دھڑے مذاکرات کو قبول کریں گے تو دوسرے ان کو قبول نہیں کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں