.

پاکستان غداری کیس، پرویز مشرف کو 18 فروری تک مہلت

مشرف کے ضامن راشد قریشی کو بھی عدالت نے طلب کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی تاریخ کے سب سے اہم مقدمے کے اکلوتے ملزم سابق صدر اور سابق آرمی چیف جمعہ کے روز بھی عدالت میں حاضر نہ ہوئے۔ تو عدالت نیں انہیں 18 فروری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

پرویز مشرف کے وکلاء نے استدعا کی تھی کہ عدالت ان کے موکل کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری نہ کرے۔ ان کا موکل 18 فروری کو عدالت میں پیش ہو جائےگا۔

پچھلے ہفتے آئین شکنی کے الزام کے تحت مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے ملزم پرویز مشرف کو اصالتا پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔ اور ان کے قابل ضمانت وارنٹ بھی جاری کیے تھے۔

جمعہ کے روز خصوصی عدالت کی کارروائی شروع ہوئی تو عدالت سے باہر لگے خصوصی حفاظتی روٹ سے یہ نہیں لگ رہا تھا کہ آج بھی پرویز مشرف عدالت کے واضح حکم کی تعمیل نہیں کریں کے گے ۔

لیکن عدالتی کارروائی شروع ہونے پر ان کے وکلاء نے ان کا حاضری سے پھر استثنا مانگ لیا اور عدالتی تشکیل کے تکینی پہلووں کو چیلنج کرتے ہوئے دلائل دیے۔

دوسری جانب عدالت پراسیکیوٹر جنرل اکرم شیخ نے مطالبہ کیا کہ ملزم پرویز مشرف کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے جائیں۔ کیونکہ پرویز مشرف عدالتی حکم کی تعمیل نہیں کر رہے ہیں اور عدالت مں پیش نہ ہونے کے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں۔

خصوصی عدالت نے اس موقع پر کہا کہ چونکہ ملکی تاریخ کا یہ اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ہے اس لیے عدالت احتیاط سے چیزوں کو دیکھ رہی ہے۔

بعد ازاں ملزم کے وکلاء نے اپنے دلائل جاری رکھے ،تاہم نماز جمعہ کے بعد تک عدالت نے اپنی کارروائی میں وقفہ کر دیا۔ وقفے کے بعد دوبارہ کارروائی شروع ہوئی تو عدالت نے ملزم پرویز مشرف کو 18 فروری کو دوبارہ طلب کر لیا۔

اس موقع پر پرویز مشرف کے ضامن راشد قریشی کو بھی عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا اگر پرویز مشرف آج عدالت میں پیش ہو جاتے تو عدالت ان کے خلاف فرد جرم عاید کرنے کا معاملہ موخر کر سکتی تھی۔