کالعدم تحریک طالبان کی مذاکرات کیلئے تین شرائط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان میں کالعدم تحریک طالبان اور حکومت کے درمیان امن مذاکرات کے لئے قائم طالبان کمیٹی کے دو ارکان نے طالبان کی سیاسی شوری سے براہ راست ملاقات کی۔ یہ ملاقات قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ہوئی۔

ہفتے کے روز وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے ہیلی کاپٹر مہیا کیے جانے کے بعد طالبان کمیٹی کے ارکان پروفیسر ابراہیم اور کمیٹی کے رابطہ کار مولانا یوسف شاہ شمالی وزیرستان پہنچے۔ اس ملاقات کا مقصد بظاہر طالبان قیادت کو حکومت کے ساتھ اب تک ہونیوالی بات چیت میں پیش رفت سے آگاہ کرنا اور ان چند وضاحتوں کا جواب لینا ہے جو حکومتی کمیٹی نے مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے ضروری قرار دی تھیں۔

حکومت اور طالبان کی کمیٹیوں کے درمیان گزشتہ جمعرات کو پہلی باضابطہ ملاقات میں دونوں کمیٹیوں کے ارکان نے ایک دوسرے کے مینڈیٹ اور اختیارات پر سولات اٹھائے تھے۔ حکموتی کمیٹی کے ارکان کا کہنا تھا کہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ طالبان کی مذاکراتی کمیٹی اور نو رکنی نگران کمیٹی کے درمیان کس نوعیت کے روابط ہیں اور یہ کمیٹیاں کتنی با اختیار ہیں۔

طالبان کمیٹی ایک ایسے وقت پر شمالی وزیرستان پہنچی ہے جب ایک روز قبل کمیٹی کے ایک رکن مولانا عبدالعزیز نے یہ کہ کر کمیٹی سے علاحدگی کا اعلان ضرور کیا تھا لیکن اب انہوں نے دوبارہ مذاکراتی عمل میں شریک ہونے پر رضا مندی ظاہر کردی ہے۔

ادھر طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان مذاکراتی کمیٹی کے ارکان نے شمالی وزیرستان کے نامعلوم مقام پر کالعدم تحریک طالبان کی مرکزی سیاسی شوری کے اجلاسوں میں شرکت کرنے کے بعد سیاسی شوری کے سربراہ قاری شکیل اور مرکزی نائب امیر شیخ خالد حقانی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

ذرائع کے مطابق کالعدم تحریک طالبان نے پہلے روز کے اجلاس میں مذاکرتی کمیٹی کے اراکین کو اپنے تین مطالبات جس میں مذاکرات شریعت کے دائرہ کار کے اندر ہونے چاہے، شورش زدہ علاقوں سے فوج کی واپسی اور پاکستانی جیلوں میں قید طالبان قیدیوں کی رہائی کے مطالبے پیش کیے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا ان تینوں مطالبات کو تسلیم نہ کیا گیا تو مذاکرات میں پیش رفت مشکل ہو جائیگی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کل بھی جاری رہے گا آئیندہ دو روز میں مولانا سیمع الحق کی شرکت بھی متوقع ہے، طالبان سیاسی شوری نے مذاکراتی کمیٹی کو مکمل سیکورٹی بھی فراہم کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں