.

امریکا نے پاکستان سے الگ آزاد بلوچستان کی مخالفت کردی

امریکا پاکستان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کا احترام کرتا ہے:محکمہ خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے واضح کیا ہے کہ وہ آزاد بلوچستان کے آئیڈیا کی حمایت نہیں کرتا اور وہ پاکستان کی علاقائی خودمختاری کا احترام کرتا ہے۔

پاکستان کے رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں شورش پسندی میں امریکی مداخلت کے حوالے سے منگل کی سہ پہر محکمہ خارجہ کی نیوزبریفنگ کے دوران سوال اٹھایا گیا تھا۔اس سوال کے ردعمل میں ترجمان جین ساکی نے کہا کہ انھوں نے ایسی میڈیا رپورٹس دیکھی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ''ہم بلوچستان میں ملوث ہیں''۔

ترجمان نے وعدہ کیا کہ وہ اس پر ایک سرکاری بیان جاری کریں گی۔چنانچہ بدھ کو امریکی محکمہ خارجہ نے یہ بیان جاری کیا ہے جس میں واضح کیا ہے کہ''امریکا پاکستان کی علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے اور بلوچستان کی آزادی کے لیے حمایت انتظامیہ کی پالیسی نہیں ہے''۔

محکمہ خارجہ کی بریفنگ کے دوران بلوچستان سے متعلق سوال ری پبلکن پارٹی کے ایک رکن کانگریس لوئی گوہمرٹ کے ایک حالیہ بیان کے تناظر میں سامنے آیا تھا۔مسٹر گوہمرٹ نے کہا تھا کہ امریکا کو بلوچستان کی ایک الگ ریاست کی تشکیل کے مدد کرنی چاہیے۔

لیکن امریکی محکمہ خارجہ نے رکن کانگریس کے اس بیان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ہم ایوان نمائندگان کے رکن گوہمرٹ کے بیان سے آگاہ ہیں، کانگریس کے ارکان مختلف موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔یہ لازمی نہیں ہے کہ امریکی حکومت بھی ایسے بیانات کی توثیق کرتی ہو''۔

مسٹر گوہمرٹ نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں یہ درفنطنی چھوڑی تھی کہ افغان بحران کے حل کے لیے پاکستان میں سے بلوچستان کی ایک الگ ریاست قائم کردی جائے۔انھوں نے یہ بھاشن صدر براک اوباما کے گذشتہ ماہ اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے بعد دیا ہے۔اس میں انھوں نے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کی بات کی تھی لیکن ری پبلکن رکن کانگریس نے اس سے یہ مفہوم اخذ کیا تھا کہ امریکی صدر کی تقریر دراصل ان کا افغان جنگ میں اعتراف ناکامی ہے۔

ری پبلکن پارٹی اس منتخب رکن نے افغانستان میں امریکی شکست کو فتح میں تبدیل کرنے کے لیے دونکاتی فارمولا تجویز کیا ہے جس کے تحت ایک تو یہ کہ شمالی اتحاد کو مزید اسلحہ مہیا کیا جاِئے اور دوسرا یہ کہ پاکستان کی سرحدوں کے اندر ایک نئی ریاست قائم کی جائے۔

مسٹر گوہمرٹ نے ''دی ہفنگٹن پوسٹ'' کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ ''پاکستان کے جنوبی حصے میں بلوچستان کی تخلیق کی بات کی جائے۔وہ ہم سے محبت کرتے ہیں ،وہ بارودی مواد لگانا اور افغانستان میں آنے والے اسلحے کو بھی بند کردیں گے اور ہمیں ان پر فتح پانے میں کوئی دیر نہیں لگے گی''۔

امریکی محکمہ خارجہ نے تو رکن کانگریس کے اس بھاشن کے ردعمل میں اپنا بیان جاری کردیا ہے لیکن وائٹ ہاؤس نے ہنوز اس پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔واضح رہے کہ صوبہ بلوچستان میں بعض بلوچ قبائل اور ان کے مسلح نوجوان پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے خلاف برسرپیکار ہیں اور وہ اپنے تئیں صوبے کی علاحدگی کے لیے محدود پیمانے پر مسلح تحریک چلا آرہے ہیں۔وہ آئے دن عام شہریوں ،سکیورٹی فورسز اور اپنے سیاسی ،نسلی ونظریاتی مخالفین پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

پاکستانی میڈیا میں وفتاً فوقتاً بلوچستان میں جاری شورش پسندی میں پڑوسی ممالک اور خاص طور بھارت کے ملوث ہونے سے متعلق رپورٹس سامنے آتی رہتی ہیں جبکہ بعض سراغرساں اور حساس اداروں کے حکام یہ کہہ چکے ہیں کہ صوبے میں جاری گڑ بڑ میں بہت سی طاقتیں ملوث ہیں اور اس ضمن میں امریکا کا اسم گرامی بھی لیا جارہا ہے۔