.

حکومت پاکستان: طالبان سے مذاکرات کے لیے شرائط کا اشارہ

فریقین نے نرمی نہ دکھائی تو مذاکرات میں تعطل آ سکتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں وزارت داخلہ سے متعلق حلقوں میں یہ عام طور پر سوچا جا رہا ہے کہ اگر مذاکرات کے ساتھ ساتھ تحریک طالبان پاکستان کی دہشت گردانہ کارروائیاں جاری رہیں تو امن مذاکرات کو جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔

اس مقصد کے لیے حکومتی مذاکراتی کمیٹی طالبان کی نامزد کمیٹی سے یکطرفہ جنگ بندی کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ واضح رہے اس سے پہلے طالبان بھی اسی نوعیت کا مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ مذاکرات سے پہلے فوجی آپریشن بندکیا جائے۔

اسلام آباد میں موجود ذرائع کے مطابق اگر طالبان کی نامزد کردہ کمیٹی طالبان کی کارروائیاں رکوانے کی واضح یقین دہانی نہ کرا سکی تو مذاکراتی کمیٹیوں کی باہم ملاقاتوں کا جواز کمزور پڑ جائے گا۔ اسی طرح کا تاثر وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے دو روز قبل ہی دے دیا تھا کہ دہشت گردی اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے ہیں۔

کراچی میں پولیس اہلکاروں کی بس پر کیے گئے خود کش حملے اور اس کے بعد تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان کی طرف سے ذمہ داری قبول کرنے پر وزارت داخلہ ہی نہیں حکومت کی مذاکراتی کمیٹی میں بھی غم وغصہ پایا جاتا ہے۔

ان ذرائع کے مطابق حکومت اور اس کی طرف سے مذاکراتی عمل کا براہ راست اور بالواسطہ طور پر حصہ ادارے مذاکرات کی تکمیل سے پہلے قیام امن کو نتیجے کے طور پر دیکھنے کے خواہشمند ہیں۔

دوسری جانب تحریک طالبان میں بعض عناصر مذاکرات سے پہلے یکطرفہ جنگ بندی قبول کرنے کو اپنے آپ کو کمزور کر لینے کے مترادف سمجھتے ہیں۔

تاہم فریقین کے رویے میں نرمی نہ آنے اورغیر مشروط مذاکرات کو مشروط راستے پر ڈالنےکی کوششوں سے مذاکرت تعطل کا شکار ہوسکتے ہیں۔