.

سعودی عرب کے ولی عہد کی سرتاج عزیز سے ملاقات

ملاقات میں دو طرفہ تعلقات کے فروغ اور تعاون میں بہتری پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز السعود اور ان کے وفد نے اتوار کو پاکستانی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں جس میں دو طرفہ تعلقات کے فروغ اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے پر بات چیت ہوئی۔

سعودی عرب کے ولی عہد کے پاس مملکت کی وزارت دفاع کا قلمدان بھی ہے۔ انہوں نے اتوار کے روز اپنے پاکستانی ہم منصب خواجہ آصف سے پنجاب ہاوس میں ملاقات کی۔

پاکستانی وزیر دفاع کا اس موقع پر کہنا تھا کہ دونوں کے تعلقات کے تناظر میں شہزادہ سلمان کا یہ دورہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ملاقات میں دفاعی پیداوار میں تعاون پر بات چیت کے علاوہ دونوں ملکوں نے تربیت کے لیے فوجی تبادلوں پر بھی اتفاق کیا گیا۔

بعد ازاں سعودی مہمان سے قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون تیز کرنے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔

سعودی عرب کے معزز مہمان نے اتوار کے روز ہی وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ امور ڈاکٹر نزار بن عبید مدنی اور وزیراعظم نواز شریف کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی بھی موجود تھے۔

دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق پاکستانی عہدیدار نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف سعودی عرب سے دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتے ہیں۔ طارق فاطمی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون اور اسٹریٹیجک تعلقات کے نئے دور کے آغاز کی ضرورت ہے۔

سعودی ولی عہد کے ہمراہ آنے والے وزیر اقتصادیات و منصوبہ بندی محمد بن سلمان الجاسر نے وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال سے ملاقات کی۔ وفاقی وزیر نے مہمان وزیر سے کہا کہ ان کا ملک امداد کی بجائے سعودی عرب سے تجارت کے فروغ کا خواہاں ہے۔