.

ایف سی کے اہلکاروں کی ہلاکت، حکومت طالبان مذاکرات خطرے میں؟

حکومتی کمیٹی کی مشاورت شروع، آج کے مذاکرات موخر بھی ہو سکتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے دارالحکومت میں طالبان سے جاری مذاکرات کے کیلیے ایف سی کے 23 مغوی اہلکاروں کی ہلاکت کے واقعے مشکل صورت حال پید کر دی ہے۔ اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے عندیہ دیا ہے کہ حکومتی اور طالبان کمیٹی کے درمیان آج متوقع مذاکرات سے قبل حکومت کے اعلی اور متعلقہ ذمہ داروں سے قبل حکومتی کمیٹی کے ارکان مشاورت کر کے اپنا لائحہ عمل سامنے لائیں گے۔

خیال رہے حکومتی کمیٹی کی کوششوں کو وزیر اعظم میاں نواز شریف براہ راست مانیٹر کر رہے ہیں۔ بیرون ملک دورے کے دوران بھی نواز شریف حکومتی کمیٹی سے مسلسل رابطے میں رہے تھے۔

اس سے پہلے کراچی میں پولیس اہلکاروں کی بس کو خود کش بم حملے کا نشانہ بنانے کی ذمہ داری طالبان کی طرف سے قبول کرنے کے بعد حکومتی کمیٹی نے طالبان کی نامزد کردہ مذاکرات کمیٹی کو ایسے واقعات کی موجودگی میں بالواسطہ طور پر مذاکرات روک دینے کا پیغام دیا تھا۔

تاہم دونوں طرف کی کمیٹیوں نے معاملے کی نزاکت کے پیش نظر بالغ نظری کا ثبوت دیا۔ جس کے بعد طالبان شوری نے بھی مثبت رد عمل دیا تھا، لیکن اب ایک مرتبہ پھر صورتحال کے بگاڑ کی نشاندہی ہو رہی ہے.

حکومتی کمیٹی کے ایک رکن کے حوالے سے سامنے آںے والے خیالات میں بتایا گیا ہے کہ ایف سی کے مغوی اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری اگرچہ تحریک طالبان مہمند ایجنسی نے قبول کی ہے، اس کے باوجود یہ جاننا ضروری ہے کہ آیا 23 ایف سی اہلکاروں کو ہلاک کرنے کی یہ کارروائی مہمند کے طالبان نے اپنے طور پر کی ہے یا تحریک طالبان پاکستان کے کہنے پر کی ہے۔

واضح رہے ایف سی کے اہلکاروں کو طالبان نے 2010 میں اس وقت اغوا کیا تھا جب وہ اپنی چیک پوسٹ پر موجود تھے۔

اسلام آباد میں موجود ذرائع کے مطابق حکومتی کمیٹی کم از کم آج پیر کے روز طالبان کی کمیٹی کے ساتھ متوقع مذاکرات سے پہلے یہ تصدیق ضرور چاہے گی کہ اس بہیمانے واقعے میں تحریک طالبان پاکستان کی ہدایت یا مشاورت تو شامل نہیں ہے۔

اس سلسلے میں اگر حکومت نے زیادہ سخت موقف اپنایا تو آج کے ممکنہ مذاکرات کو موخر بھی کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ابھی اس بارے میں حکومت، اس کی کمیٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے ہو رہے ہیں ۔ جن کے بعد ہی حکومتی کمیٹی حتمی حکمت عملی وضع کر سکے گی۔