.

ایران کی پاکستانی علاقے میں فورسز داخل کرنے کی دھمکی

پاکستان سے یرغمال سرحدی محافظوں کی بازیابی کے لیے سنجیدہ اقدام کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے وزیرداخلہ نے یرغمال سرحدی محافظوں کی بازیابی کے لیے پاکستان اور افغانستان کے علاقے میں اپنی سکیورٹی فورسز داخل کرنے کی دھمکی دی ہے۔

ایرانی وزیرداخلہ عبدالرضا رحمانی فاضلی کا سرکاری ٹیلی ویژن چینل پر سوموار کو ایک بیان نشر کیا گیا ہے۔اس میں انھوں نے پاکستان سے بطور خاص مطالبہ کیا ہے کہ وہ پانچ ایرانی سرحدوں محافظوں کی بازیابی کے لیے سنجیدہ اور سخت اقدامات کرے یا پھر ایران کو اپنے سرحدی علاقوں کو محفوظ بنانے کی اجازت دے۔

رضا رحمانی نے دھمکی آمیز انداز میں کہا ہے کہ ''اگر پاکستان اقدامات نہیں کرتا تو پھر ہم اس کے علاقے میں مداخلت کو اپنا حق جانیں گے اور ہم اپنے تحفظ کے لیے نیا سکیورٹی علاقہ بنائیں گے''۔

واضح رہے کہ ایک غیر معروف تنظیم جیش العدل نے گذشتہ ہفتے ٹویٹر پر جاری کردہ ایک بیان میں ایران کے پانچ سرحدی محافظوں کو اغوا کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور ان کی تصاویر بھی پوسٹ کی تھیں۔اسی تنظیم نے نومبر میں ایران کے صوبہ سیستان،بلوچستان میں ایک مقامی پراسیکیوٹر کو قتل کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

اسی تنظیم کے جنگجوؤں نے اکتوبر میں ایک حملے میں ایران کے چودہ سرحدی محافظوں کو ہلاک کردیا تھا۔اس واقعے کے ردعمل میں ایرانی حکام نے سولہ باغیوں کو سولی چڑھا دیا تھا۔ان میں آٹھ مزاحمت کار تھے اور آٹھ منیشات کے اسمگلر تھے۔

ایران کے مشرقی صوبہ سیستان،بلوچستان میں بلوچ نسل سے تعلق رکھنے والے اہل سنت آباد ہیں،اس کی سرحدیں پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور افغانستان سے ملتی ہیں۔اس صوبے میں حالیہ برسوں میں بلوچ اہل سنت سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں شورش بپا کررکھی ہے اور انھوں نے ایرانی فورسز پر دسیوں حملے کیے ہیں۔ان کا موقف ہے کہ انھوں نے ایرانی حکام کے امتیازی سلوک کے خلاف احتجاج اور اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے ہتھیار اٹھائے ہیں۔ایران پاکستان پرماضی میں ان جنگجوؤں کو پناہ دینے کے بھی الزامات عاید کرتا رہا ہے۔.