.

حکومتی کمیٹی کا امن مذاکرات آگے بڑھانے سے اظہار معذرت

طالبان سے غیر مشروط طور پر تشدد کی تمام سرگرمیاں ختم کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی حکومتی کمیٹی نے ملک کے شمال مغربی علاقوں اور سب سے بڑے شہر کراچی میں دہشت گردی کی حالیہ کارروائیوں کے بعد طالبان جنگجوؤں سے مذاکرات کا عمل آگے بڑھانے سے معذرت کر لی ہے۔

وزیراعظم میاں نواز شریف کی صدارت میں منگل کو اسلام آباد میں کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان اور وزیراطلاعات پرویز رشید نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں کمیٹی کے ارکان نے کہا کہ ٹھوس اقدامات کے بغیر پیش رفت ممکن نہیں اور طالبان بلا تاخیر غیر مشروط طور پر تشدد کی تمام سرگرمیوں کو ختم کریں۔

وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق حکومتی کمیٹی نے میاں نواز شریف کو طالبان کے مذاکرات کاروں کے ساتھ تیرہ روزہ مذاکراتی عمل کے بارے میں آگاہ کیا اور بتایا کہ اس دوران تشدد کے متعدد واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں دسیوں افراد مارے گئے ہیں۔

کمیٹی نے بتایا کہ مذاکرات کا عمل اطمینان بخش طریقے سے جاری تھا لیکن 13 فروری کو کراچی کے علاقے رزاق آباد میں پولیس کی ایک بس پر بم حملے کے بعد اس میں رخنہ آگیا۔کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ترجمان نے اس بم حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔

کمیٹی کا کہنا تھا کہ ابھی وہ طالبان جنگجوؤں کی جانب سے دہشت گردی کے اس واقعے کی وضاحت کی منتظر ہی تھی کہ مہمند ایجنسی کا واقعہ پیش آگیا جہاں طالبان جنگجوؤں نے یرغمال بنائے گئے پاکستانی فوجیوں کو قتل کردیا۔

ان واقعات کے بعد کمیٹی کے ارکان نے متفقہ طور پر طالبان کی کمیٹی سے مذاکرات جاری نہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس کے نزدیک یہ ایک لاحاصل مشق ہے۔کمیٹی کا کہنا تھا کہ مہمند ایجنسی کے واقعے کے بعد صورت حال مکمل طور پر تبدیل ہوگئی ہے اور طالبان کی جانب سے تشدد کی تمام سرگرمیوں کے خاتمے کے بغیر امن بات چیت کو جاری رکھنا ممکن نہیں رہا ہے۔

وزیراعظم میاں نواز شریف نے کمیٹی کی کارکردگی کو سراہا اور اس کے ارکان سے کہا کہ وہ باہمی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھیں۔واضح رہےکہ میاں نواز شریف نے گذشتہ ماہ اپنے قومی امور پرمشیراور معروف کالم نگار عرفان صدیقی ،معروف تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی ،سابق سفیر اور افغان امور کے ماہر رستم شاہ مہمند اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق اہلکار ریٹائرڈ میجر عامر پر مشتمل کمیٹی کو طالبان سے امن مذاکرات کے لیے مقرر کیا تھا۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے حکومتی کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کے لیے جمعیت علماء اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق،جماعت اسلامی کے رہ نما پروفیسر محمد ابراہیم اورلال مسجد اسلام آباد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کو نامزد کیا تھا۔

فروری کے پہلے پندرھواڑے کے دوران ان دونوں کمیٹیوں کے دوچار ہی مشترکہ اجلاس ہوئے ہیں جن میں دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کی لیکن اس مذاکراتی عمل کے بالکل آغاز میں ٹی ٹی پی کی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن مولانا عبدالعزیز نے حکومت پر زوردیا تھا کہ وہ آئین کے تحت مذاکرات کی شرط کو ختم کرے۔انھوں نے کہا کہ ''اگر قرآن وسنت ہمارا آئین ہوتے تو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔اب طالبان کا کہنا ہے کہ وہ ملک کے موجودہ آئین کو تسلیم ہی نہیں کرتے''۔

طالبان کی مذاکراتی کمیٹی نے حکومت سے اس کی چاررکنی مذاکراتی کمیٹی کے مینڈیٹ اور اس کی امن معاہدے کے نفاذ سے متعلق اتھارٹی اور صلاحیت کے بارے میں وضاحت طلب کی تھی۔کمیٹی کے رکن مولانا سمیع الحق نے کہا تھا کہ ''ملک میں حکومت کی جانب سے شریعت کے نفاذ اور پڑوسی ملک افغانستان سے امریکا کی قیادت میں غیرملکی فوجوں کے انخلاء کے بغیر امن قائم نہیں ہوگا''۔

اب حکومتی کمیٹی کی جانب سے طالبان سے مذاکرات جاری رکھنے سے معذرت کے بعد اس بات کا زیادہ امکان نظرآرہا ہے کہ حکومت اور پاک فوج ملک کے شمال مغربی پہاڑی علاقوں میں برسرپیکار طالبان جنگجوؤں کے خلاف ایک بڑے آپریشن کا جائزہ لیں اور اس کو عملی جامہ پہنائیں۔