پاکستان:سکیورٹی فورسز کی بمباری، غیر ملکیوں سمیت 15 طالبان ہلاک

دہشت گردی کا بھر پور جواب دیا جائیگا، وزیر دفاع خواجہ آصف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کے افغانستان سے جڑے قبائلی علاقہ جات میں پاکستانی فورسز نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب جیٹ طیاروں سے بمباری کر کے 15 طالبان کو ہلاک کر دیا ہے۔ سکیورٹی فورسز نے یہ کارروائی ایسے وقت میں کی ہے جب صرف ایک روز قبل تریک طالبان کی طرف سے مشروط جنگ بندی کی پیش کش کی گَی تھی۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اس موقع پر دو ٹوک کہا ہے کہ دہشت گردی کا مسلح افواج کی طرف سے بھرپور جواب دیا جائےگا۔

واضح رہے قبائلی علاقوں میں اس سے پہلے طالبان کی ہلاکتوں کے واقعات امریکی ڈرون حملوں کے نتیجے میں ہوتے رہے ہیں جن سے سویلین کی بڑی تعداد بھی ہلاک ہوچکی ہے۔ تاہم اب چند ہفتوں سے امریکی ڈرون حملوں کے واقعات رکے ہوئے ہیں۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ''پاکستان پر ڈرون حملوں میں امریکا نے کمی کردی ہے۔'' تاہم اس کمی کی رپورٹ کے بعد خود پاکستانی سکیورٹی فورسز کی طرف سے ٹھیک ایک ماہ میں بمباری کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔

تازہ بمباری میر علی کے علاقے میں کی گئی ہے جس میں بعض غیر ملکی عسکریت پسندوں سمیت مجموعی طور پر 15 عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔ اس سے پہلے 20 جنوری کو اسی نوعیت کی ایک کامیاب بمباری سے 40 عسکریت پسندوں کو پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے ہلاک کر دیا تھا۔

پاکستان کی حکومت ان دنوں تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کے عمل میں شریک ہے۔ البتہ اس دوران طالبان کی طرف سے پہلے کراچی میں پولیس ٹریننگ سنٹر کے قریب پولیس بس پر خود کش حملے اور بعد ازاں ایف سی کے 23 مغوی اہلکاروں کی شہادت نے ان مذاکرات میں رخنہ پیدا کیا ہے۔

اسی دوران طالبان نے جنگ بندی کی مشروط پیش کی ہے کہ زیر حراست عسکریت پسندوں کو جعلی پولیس مقابلوں میں نہ مارا جائے تو وہ بھی دہشت گردانہ کارروائیاں روک دیں گے۔ تاہم اس کا حکومت کی طرف سے کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔ البتہ میر علی میں بمباری سے 15 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا واقعہ سامنے آگیا ہے۔

بمباری پر ابھی تک طالبان کا کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ اندیشہ ہے کہ دونوں طرف مذاکرات کے بارے میں اعتماد میں تزلزل کا سلسلہ آگے بڑھ سکتا ہے۔ جیسا کہ طالبان کی مذاکرات کیلیے نامزد کمیٹی کے رکن پروفیسر نے'' اس بمباری پر کہا ہے کہ مزاکرات میں مشکلات پیدا ہوں گی۔''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں