.

پاکستان:سکیورٹی فورسز کی بمباری، غیر ملکیوں سمیت 15 طالبان ہلاک

دہشت گردی کا بھر پور جواب دیا جائیگا، وزیر دفاع خواجہ آصف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے افغانستان سے جڑے قبائلی علاقہ جات میں پاکستانی فورسز نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب جیٹ طیاروں سے بمباری کر کے 15 طالبان کو ہلاک کر دیا ہے۔ سکیورٹی فورسز نے یہ کارروائی ایسے وقت میں کی ہے جب صرف ایک روز قبل تریک طالبان کی طرف سے مشروط جنگ بندی کی پیش کش کی گَی تھی۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اس موقع پر دو ٹوک کہا ہے کہ دہشت گردی کا مسلح افواج کی طرف سے بھرپور جواب دیا جائےگا۔

واضح رہے قبائلی علاقوں میں اس سے پہلے طالبان کی ہلاکتوں کے واقعات امریکی ڈرون حملوں کے نتیجے میں ہوتے رہے ہیں جن سے سویلین کی بڑی تعداد بھی ہلاک ہوچکی ہے۔ تاہم اب چند ہفتوں سے امریکی ڈرون حملوں کے واقعات رکے ہوئے ہیں۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ''پاکستان پر ڈرون حملوں میں امریکا نے کمی کردی ہے۔'' تاہم اس کمی کی رپورٹ کے بعد خود پاکستانی سکیورٹی فورسز کی طرف سے ٹھیک ایک ماہ میں بمباری کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔

تازہ بمباری میر علی کے علاقے میں کی گئی ہے جس میں بعض غیر ملکی عسکریت پسندوں سمیت مجموعی طور پر 15 عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔ اس سے پہلے 20 جنوری کو اسی نوعیت کی ایک کامیاب بمباری سے 40 عسکریت پسندوں کو پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے ہلاک کر دیا تھا۔

پاکستان کی حکومت ان دنوں تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کے عمل میں شریک ہے۔ البتہ اس دوران طالبان کی طرف سے پہلے کراچی میں پولیس ٹریننگ سنٹر کے قریب پولیس بس پر خود کش حملے اور بعد ازاں ایف سی کے 23 مغوی اہلکاروں کی شہادت نے ان مذاکرات میں رخنہ پیدا کیا ہے۔

اسی دوران طالبان نے جنگ بندی کی مشروط پیش کی ہے کہ زیر حراست عسکریت پسندوں کو جعلی پولیس مقابلوں میں نہ مارا جائے تو وہ بھی دہشت گردانہ کارروائیاں روک دیں گے۔ تاہم اس کا حکومت کی طرف سے کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔ البتہ میر علی میں بمباری سے 15 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا واقعہ سامنے آگیا ہے۔

بمباری پر ابھی تک طالبان کا کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ اندیشہ ہے کہ دونوں طرف مذاکرات کے بارے میں اعتماد میں تزلزل کا سلسلہ آگے بڑھ سکتا ہے۔ جیسا کہ طالبان کی مذاکرات کیلیے نامزد کمیٹی کے رکن پروفیسر نے'' اس بمباری پر کہا ہے کہ مزاکرات میں مشکلات پیدا ہوں گی۔''