.

پرویز مشرف پرغداری کیس فوجی نہیں،خصوصی عدالت میں چلے گا

خصوصی عدالت نے مقدمہ فوجی عدالت میں منتقل کرنے کی درخواست مسترد کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی آئینی اور سیاسی تاریخ کے سب سے اہم مقدمہ ''پرویز مشرف غداری کیس'' کے حوالے سے اسلام آباد میں قائم خصوصی عدالت نے سابق صدر اور سابق فوجی سربراہ کی یہ درخواست مسترد کر دی ہے کہ ان کے خلاف مقدمہ فوجی عدالت میں چلایا جائے۔جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی عدالت نے جمعہ کو یہ مختصر سنایا ہے۔

غداری کیس کے ملزم پرویز مشرف نے اپنی درخواست میں خصوصی عدالت کے دائرہ اختیار اور طریقۂ تشکیل کو چیلنج کیا تھا۔ اس بارے میں عدالت نے 18 فروری کو پرویز مشرف کی پیشی کے موقع پر محفوظ کر لیا تھا۔

اس فیصلے کی روشنی میں مقدمے کے واحد ملزم پرویز مشرف کو خصوصی عدالت نے گیارہ مارچ کو طلب کر لیا ہے۔ اب فرد جرم اسی روز عاید کیے جانے کا امکان ہے۔عدالت کے ججوں کے پرویز مشرف کے اقدامات سے متاثر ہونے سے متعلق درخواست کا فیصلہ 4 مارچ کو سنایا جائے گا۔

غداری کیس کے بارے میں عدالت کے فیصلے کو ملزم کے وکلاء نے ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ وکلاء کا فیصلے کے بعد رویہ معاندانہ تھا۔

واضح رہے پرویز مشرف کیخلاف یہ مقدمہ پچھلے سال ماہ دسمبر میں شروع ہوا تھا اور اس سلسلے میں تاریخی مقدمے کے اب تک کے اکلوتے ملزم پرویز مشرف کو جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں قائم خصوصی عدالت نے یکم جنوری کو طلب کیا تھا۔ تاہم پرویز مشرف عدالت جاتے ہوئے اچانک بیمار ہو گئے اور عدالت کی بجائے فوج کے زیر انتظام چلنے والے امراض قلب کے ہسپتال پہنچ گئے۔

بعد ازاں عدالت نے انھیں متعدد بار طلب کیا لیکن خرابی صحت کے باعث وہ عدالت کو دستیاب نہ ہوئے۔ البتہ عدالت کی طرف سے سخت کارروائی کے خوف سے 18 فروری کو عدالت میں پیش ہو گئے۔ اب انھیں عدالت نے گیارہ مارچ کو طلب کیا ہے۔