.

پاکستانی جیٹ طیاروں کی بمباری،35 مشتبہ جنگجو ہلاک

وادی تیراہ میں مشتبہ جنگجوؤں کے متعدد ٹھکانے اور اسلحہ ساز فیکٹری تباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے جنگی طیاروں نے وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے علاقے وادی تیرہ میں مشتبہ جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں پینتیس جنگجو ہلاک اور پندرہ زخمی ہوگئے ہیں۔

سکیورٹی حکام کے مطابق جیٹ طیاروں نے اتوار کو تیراہ میں جنگجوؤں کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے اور دھماکا خیز مواد تیار کرنے والی ایک فیکٹری ،بھاری مقدار میں اسلحے اور گولہ بارود کو تباہ کردیا ہے۔

پاکستانی فوج نے وادی تیراہ میں یہ فضائی حملے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو کے گاؤًں تھل پر گن شپ ہیلی کاپٹروں سے مشتبہ جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بمباری کے ایک روز بعد کیے ہیں۔ان حملوں میں نو مشتبہ جنگجو ہلاک ہوگئے تھے۔

وزیراعظم میاں نواز شریف نے 20 فروری کو اعلیٰ فوجی قیادت کے ساتھ مشاورت کے بعد شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں مشتبہ جنگجوؤں کے خلاف فضائی حملوں کی اجازت دی تھی۔وفاق کے زیرانتظام ان دونوں علاقوں میں کالعدم تحریک طالبان اور القاعدہ کے جنگجوؤں نے اپنے مضبوط ٹھکانے بنا رکھے ہیں۔

طالبان جنگجوؤں کے خلاف یہ تازہ کارروائی حکومت اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان بات چیت کا سلسلہ منقطع ہونے کے بعد کی جارہی ہے۔ پاکستان کی حکومتی کمیٹی نے گذشتہ ہفتے مہمند ایجنسی میں طالبان جنگجوؤں کے ہاتھوں فوجیوں کے بہیمانہ قتل اور ملک کے دوسرے علاقوں خاص طور پر سب سے بڑے شہر کراچی میں دہشت گردی کی حالیہ کارروائیوں کے بعد طالبان کی نامزد کمیٹی سے مذاکرات کا عمل آگے بڑھانے سے معذرت کر لی تھی۔