.

طالبان کمانڈر عصمت اللہ شاہین تین ساتھیوں سمیت ہلاک

واقعہ شمالی وزیرستان میں نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں پیش آیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پیر کے روز بھی طالبان کا ایک اہم کمانڈر عصمت اللہ شاہین اپنے تین دیگر ساتھیوں سمیت ہلاک ہو گیا ہے۔ طالبان کے اہم کمانڈر کی ہلاکت نامعلوم حملہ آوروں کے ہاتھوں ہوئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان جہاں ان دنوں سکیورٹی فورسز نے طالبان کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کر رکھا ہے اور پچھلے کئی دنوں سے تقریبا ہر روز درجنوں شدت پسند مارے جا رہے ہیں۔ پیر کے روز طالبان کو اس وقت ایک بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا جب ایک اہم کمانڈر کو نامعلوم مسلح افراد نے ہلاک کر دیا۔

یہ واقعہ شمالی وزیرستان میں پیش آیا ہے۔ عصمت اللہ شاہین اپنی گاڑی پر تحصیل غلام خان میں درگاہ منڈی کے علاقے گذر رہا تھا کہ گولیوں کا نشاہ بنا دیا گیا۔ اس واقعے میں مجموعی طور پر چار شدت پسند لقمہ اجل بنے۔ تاہم ابھی بقیہ تین کی شناخت ہونا باقی ہے۔

حملہ آور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں افراتفری کا ماحول دیکھنے میں آیا۔ مقامی لوگوں نے میتیں ہسپتال منتقل کر دی ہیں۔ کمانڈر عصمت اللہ شاہین حکیم اللہ محسود کے بعد تحریک طالبان کے قائم مقام سربراہ رہ چکا ہے۔

عصمت اللہ شاہین کو پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے انتہائی مطلوب افراد میں شامل کیا ہوا تھا، اس کمانڈر کے سر کی قیمت 2009 میں ایک لاکھ بیس ہزار امریکی ڈالر مقرر کی گئی تھی۔

واضح رہے وزیرستان کو مبینہ طور پر طالبان اور القاعدہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم پچھلے کئی دنوں سے پاکستان کی افواج ان کے خلاف سخت کارروائیاں کر رہی ہیں۔