.

وزیرستان بمباری: 30 عسکریت پسند ہلاک، ٹھکانے تباہ

وفاقی کابینہ آج کارروائیوں میں وسعت کی منظور دے سکتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

طالبان کے خلاف پاکستانی سکیورٹی فورسز کی تازہ کارروائی کے دوران مزید تیس شدت پسند مارے گئے ہیں۔ مسلح افواج جنہیں آج امکانی طور پر وفاقی کابینہ کی جانب سے ان کارروائیوں کو وسعت دینے کی اجازت اور اب تک کی جانے والی کارروائیوں پرستائش ملنے کا امکان ہے۔

واضح رہے پاکستانی فورسز تقریبا ایک ہفتے سے مسلسل شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کر رہی ہے۔ پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے اپنی مہم جاری رکھتے ہوئے منگل کی صبح شمالی وزیرستان کے درمیان کے علاقے شوال میں بمباری کی گئی ہے۔ جبکہ اس بمباری سے شمالی اور جنوبی وزیرستان دونوں متاثر ہو ئے ہیں ۔

اس کارروائی کے نتیجے میں لگ بھگ تیس عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔ البتہ ابھی ہلاکتوں کی تفصیل آنا باقی ہے کہ ان ہلاک ہونے والوں میں کو بڑا عسکریت پسند بھی شامل ہے یا نہیں۔ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ ان کارروائیوں میں غیر ملکی عسکریت پسند بھی نشانہ بنے ہیں۔

منگل کے روز کی گئِ ان ٹارگیٹڈ کارروائیوں کے نتیجے میں کم از کم تین عسکری مراکز کو نقصان بنایا گیا ہے۔ اس سے پہلے صرف پانچ دنوں نے متعدد عسکری ٹھکانے نشانہ بنائے جا چکے ہیں، جبکہ دسیوں عسکریت ہلاک کیے جا چکے ہیں جن میں غیر ملکی عسکریت پسندوں کی بھی معقول تعداد شامل ہے۔

پاکستانی سکیورٹی اداروں کی طرف سے پے درپے کی جانے والی فضائی کارروائیوں کی فوری وجہ 23 مغوی ایف سی اہلکاروں کی بہیمانہ کی شہادت بنی ہے۔ اب سکیورٹی فورسز کی ان کارروائیوں میں کمی کا امکان نہِیں نظر آتا ہے۔ بظاہر حکومت اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان مذاکرات کی بحالی میں بھی دشواریاں ہیں۔