.

پاکستان : نئی قومی سلامتی پالیسی کابینہ سے منظور

طالبان کو غیر مشروط جنگ بندی کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی وفاقی کابینہ کے اجلاس میں منگل کے روز نئی قومی سلامتی پالیسی کی منظوری دے دی گئی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے وزراء نے شمالی وزیرستان میں فوجی کاروائِیوں کیخلاف احتجاج کے طور پر وفاقی اجلاس کا بائیکاٹ کیا ہے۔ جبکہ حکومت نے تحفظات دور کرنے کیلیے مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کر لیا۔

یہ پالیسی ایسے موقع پر سامنے لائی گئی ہے جب حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکراتی کمیٹیوں کے مذاکرات تعطل کا شکار بن چکے ہیں اور طالبان کیخلاف ٹارگیٹڈ کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ کابینہ نے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر مشروط طور پر جنگ بندی کا اعلان کریں۔

کابینہ نے پہلی مرتبہ کھلے لفظوں میں طالبان کو غیر مشروط طور پر جنگ بندی کیلیے انتباہ کے انداز میں کہتے ہوئے یہ بھی باور کرا دیا ہے کہ طالبان جنگ بندی کریں اس کے بعد دیکھا جائے گا کہ مذاکرات کرنے ہیں یا نہیں۔

اس سے پہلے نئی قومی سلامتی پالیسی 20 جنوری کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کی گئی تھی لیکن اسے بوجوہ منظور نہیں کیا گیا تھا۔ بعدازاں 23 جنوری کو قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سلامتی پالیسی کا از سر نو جائزہ لیا گیا اور 29 جنوری کو وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے امن کو ایک اور موقع دینے کی بات کرتے ہوئے مذاکراتی کمیٹی کا اعلان کر دیا تھا۔

نئی قومی سلامتی پالیسی پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور بعض سیاسی جماعتوں کی طرف سے تنقید بھی کی گئی تاہم امکان ہے کہ اس پالیسی کے بروئے کار آنے سے انٹیلی جنس اداروں کو زیادہ اختیارات دیے جانے کے ساتھ ساتھ ان کی آلاتی استعداد بڑھانے کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔

اب تک سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق گرفتار ہونے والے شدت پسندوں کو عدالتوں سے یقینی سزا دلوانے لیے خصوصی عدالتی انصرام کے علاوہ دہشت گردی کے واقعات کے گواہان اور جج حضرات کے تحفظ کا غیر معمولی اہتمام کیا جائے گا۔ دہشت گردی میں ملوث ملزمان کیخلاف مقدمات عدالتوں کی ''ان کیمرہ '' سماعت کا اہتمام ہو سکتا ہے۔

وزیر اعظم کے سلامتی اور خارجہ امور سے متعلق مشیر سرتاج عزیز نے پیر کے روز اس امر کا اظہار کیا تھا کہ وفاقی کابینہ منگل کے روز قومی سلامتی پالیسی زیر بحث لائی جائے گی۔ تاہم اس موقع پر جمعیت علما ئے اسلام کے وزرار کا غیر حاضر ہونا محسوس کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں آج منگل کے روز پالیسی پیش کیے جانے کے بعد اس پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ تواس موقع پر یہ بات سامنے آئی کہ حکومت چاہتی ہے کہ ملک کے قبائلی علاقوں اور صوبہ خیبر پختونخوا میں بڑھی ہوئی کارروائیوں کے سد باب کیلیے سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں زیادہ موثر بنائی جائیں تاکہ جان لیوا دہشت گردی کی کمر توڑی جا سکے۔

وفاقی کابینہ میں منظور کی جانے والی یہ قومی سلامتی پالیسی بنیادی طور تین نکات پر مشتمل ہے کہ طالبان سے مذاکرات، دہشت گردوں کی شناخت اور انٹیلی جنس کی کمزوریاں دور کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق کابینہ کے اجلاس میں طالبان کے ساتھ اب تک ہونے والے مذاکرات اور آئندہ کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ اس دوران طالبان کی طرف سے مذاکرات کے باوجود دہشت گردانہ کارروائیاں جاری رکھنے پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔ اس موقع پر طالبان کو کابینہ کی طرف سے باور کرایا گیا کہ وہ غیر مشروط طور پر جنگ بندی کریں۔

کابینہ نے عسکریت پسندوں کے بارے میں سخت موقف اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ طالبان کی طرف سے غیر مشروط جنگ بندی کے بعد ہی یہ فیصلہ حکومت کرے گی کہ اب مذاکرات کرنے ہیں یا نہیں۔