.

پاکستان کی اندرونی سلامتی سے متعلق پالیسی قومی اسمبلی میں پیش

صوبوں کی عدم دلچسپی، پارلیمانی لیڈروں کو بریفنگ دی، وزیر داخلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک روز قبل وفاقی کابینہ سے منظور کردہ قومی سلامتی پالیسی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے قومی اسمبلی میں حتمی منظوری کیلیے پیش کر دی ہے۔ مرکز کی طرف وزرائے اعلی سے لکھ کر رابطہ کیے جانے کے باوجود کسی صوبے نے پالیسی سازی کا حصہ بننا پسند نہیں کیا۔

وزیر داخلہ کے بقول یہ پالیسی بنیادی طور پر چار مراحل پر مبنی ہے اور اس میں مذاکرات کے ساتھ ساتھ طالبان کے خلاف آپریشن کو چوتھی آپشن کے طور پر رکھا گیا ہے۔ تاہم ارکان اسمبلی کو اب بھی اس پالیسی میں ترامیم پیش کرنے کا اختیار ہوگا۔

بدھ کے روز قومی اسمبلی میں قومی سلامتی پالیسی پیش کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے ملک میں حساس اداروں کی بھرمار کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ امریکا کے بعد پاکستان ایسا ملک ہے جس میں سکیورٹی اداروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

وزیر داخلہ کے بقول پاکستان میں اس وقت 26 عسکری و غیر عسکری ادارے کام کر رہے ہیں لیکن ان کے درمیان تعاون اور رابطے کا فقدان ہے۔

اس رابطے کو موثر بنانے کیلیے نئی قومی سلامتی پالیسی پر عمل کے حوالے سے نیکٹا کو مرکزی کردار دیا جائےگا، جبکہ صوبائی سطح تک پھیلا رد دہشت گردی کا ادارہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔ عسکری اور غیر عسکری اداروں کے درمیان انٹیلی جنس شئیرنگ کو بھی بہتر بنایا جائے گا۔

چوہدری نثارعلی خان نے پچھلی حکومتوں پر 13 برسوں کے دوران سلامتی پالیسی نہ بنا سکے کا الزام عاید کرتے ہوئے کہا سابقہ حکومتوں نے حالات کو ویسے ہی رہنے دیا جیسا کہ وہ چل رہے تھے.

قومی سلامتی پالسی کی تفصیل بیان کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے پہلے حصے کو منظر عام پر نہ لانے کا کہا کہ یہ انتظامی معاملات سے متعلق ہے، دوسرے حصے کو وزیر داخلہ نے سٹریٹجک قرار دیا اور کہا اس حصے میں آگے بڑھنے کی تدریج اور ترتیب بیان کی گئی ہے۔ اسی حصے میں مذاکرات، فوجی آپریشن، اور فوجی آپریشن کے ساتھ ساتھ مذاکرات کی آپشن کا ذکر ہے۔

تیسرے حصے کو وزیر داخلہ نے انٹیلی جنس شئیرنگ کو بہتر بنانے سے متعلق بتایا۔ سو صفحات پر مشتمل قومی سلامتی پالیسی کے حوالے سے وزیر داخلہ نے کہا یہ حتمی مسودہ نہیں ہے اس میں ارکان اسمبلی تبدیلیاں تجویز کر سکتے ہیں۔

وزیر داخلہ نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پالیسی کی تشکیل سے پہلے چاروں صوبوں کو لکھا گیا کہ وہ اپنی تجاویز شامل کریں لیکن کسی ایک صوبے نے بھی اس میں دلچسپی نہیں لی ہے۔ دوسری طرف انہوں نے کہا اسمبلی میں موجود تمام جماعتوں کے پالیمانی رہنماوں کو اس پالیسی پر اعتماد میں لیا گیا ہے۔

واضح رہے قومی سلامتی پالیسی کی کابینہ سے منظوری کے وقت حکمران اتحاد میں شامل جمعیت علمائے اسلام کے دونوں وزیروں نے کابینہ کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا، اس بائیکاٹ کی ایک وجہ شمالی وزیرستان میں فضائی کارروائیاں بتائی گئی تھی۔ حکومت کی پیش کردہ اس پالیسی میں ان کارروائیوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔