.

پاکستان میں انسداد پولیو ٹیم کے محافظوں پر دہشت گرد حملہ

جمرود حملے میں خاصہ دار فورس کے 10 اہلکار جاں بحق، متعدد زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے زیر انتظام قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود میں انسدادِ پولیو مہم کی ٹیم کی سیکیورٹی پر مامور خاصہ دار فورس کی گاڑی پر ہوئے ایک حملے میں ایک بچے سمیت دس اہلکار جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں میں سے کچھ کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے اورہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

ہفتے کے روز ہونے والے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے حکام نے بتایا کہ اس واقعہ میں خاصہ دار فورس کے نو اہلکار جاں بحق ہوئے ہیں۔ بم حملے میں فورسز کی دو گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔ ایک نعش اور متعدد زخمیوں کو پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس جبکہ باقی زخمیوں کو تحصیل جمرود کے قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ تحصیل جمرود کے علاقے لاشوڑو میں اس وقت پیش آیا جب وہاں پر پولیو مہم جاری تھی۔ اس دوران نامعلوم شدت پسندوں نے پولیو ٹیم کی سیکیورٹی پر معمور خاصہ دار فورس کی گاڑی کو بم کا نشانہ بنایا۔ بم حملے کے بعد فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔

خیال رہے کہ خیبر ایجنسی میں پولیو وکرروں پر اس سے پہلے بھی حملے ہو چکے ہیں۔ یہ دھماکے ایسے وقت ہوئے ہیں جب سکیورٹی فورسز نے گزشتہ چند دنوں کے دوران خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو دو مرتبہ فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان دنیا کے ان تین ملکوں میں شامل ہے جہاں اس مہلک بیماری سے بچوں کی ایک بڑی تعداد متاثر ہے، لیکن ملک بھر میں کافی عرصے سے مسلسل پولیو ٹیموں کو نشانہ بنائے جانے سے یہ مہم متاثر ہو رہی ہے۔