.

سانحہ اسلام آباد کچہری، وکلا کی ہڑتال اور مذمتی اجلاس

اسلام آباد سمیت پورے ملک میں احتجاج، سیاہ پرچم بھی لہرائے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے مختلف شہروں میں منگل کے روز وکلاء سب سے بڑی باڈی پاکستان بار کونسل کی اپیل پر وکلاء نے ہڑتال کی اور اس سلسلے میں عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کر کے مذمتی اجلاس منعقد کیے۔ اس موقع پر وفاقی دارالحکومت سمیت تمام صوبائی دارالحکومتوں اور چھوٹے بڑے شہروں میں مقابلتا زیادہ حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔

تفصیلات کے مطابق ایک روز قبل اسلام آباد کی ضلع کچہری میں ایک جج سمیت 11 افراد کی دہشتگردوں کے ہاتھوں ہلاکت کے واقعے پر آج پورے پاکستان کے وکلاء نے احتجاج کیا اور عدالتی عمارات، اور بار رومز پر سیاہ پر چم لہرائے۔ تاہم بعض اعلی عدالتوں میں عدالتی کارروائی قدرے متاثر رہنے کے باوجود جاری رہی۔

اسلام آباد میں سپریم کورٹ میں اس سانحہ کچہری کے از خود نوٹس کی سماعت بھی ہوئی، اس موقع پر سپریم کورٹ سمیت تمام عدالتوں اور ان کو جانے والے راستوں پر سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے۔ جڑواں شہر راولپنڈی میں ہائی کورٹ بنچ اور دیگر عدالتی عمارات میں احتجاجی وکلاء اور جج حضرات کی حفاظت کا انتطام بطور خاص کیا گیا تھا۔

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ہائی کورٹ، سیشن کورٹ، اور دیگر عدالتوں کا وکلاء برادری نے بائیکاٹ کیا۔ مختلف بارز اور وکلا تنطیموں نے اس موقع پر سانحہ اسلام آباد کچہری کی مذمت کیلیے اجلاس منعقد کیے اور مذمتی قرار دادیں منظور کیں۔ لاہور میں سیاہ پرچم بھی لہرائے گئے جبکہ وکلاء نے کالی پٹیاں باندھیں پولیس نے زیادہ تر وقت لاہور ہائی کورٹ کی طرف جانے والے راستوں کو حفاظتی ضرورت کے تحت رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کیے رکھا۔

کراچی میں سندھ ہائی کورٹ، سٹی کورٹ اور ملیر کورٹ میں بھی وکلا نے ہڑتال کی اور عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔ سیاہ پرچم لہرائے اور بازووں پر کالی پٹیاں باندھیں۔ اس موقع پر سندھ ہائی کورٹ بار نے مزمتی اجلاس بھی منعقد کیا اور دہشت گردی کے اسلام آباد میں ہونے والے وقعے کی مذمت کی۔

صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت میں ہائی کورٹ میں وکلاء نے دہشت گردی کیخلاف احتجاجاً سیاہ پرچم لہرائے۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں وکلا نے پاکستان بار کونسل کی اپیل پر ہڑتال میں حصہ لیا۔ واضح رہے سانحہ اسلا م آباد کچہری سے تحریک طالبان پاکستان نے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے، البتہ ایک غیر معروف تنظیم احرارالہند نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔