.

خیبر ایجنسی: نیٹو ٹرکوں پراندھا دھند فائرنگ، دو افراد ہلاک

موٹر سائیکلوں پر سوار حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب، کسی نے ذمے داری قبول نہیں کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے افغانستان میں نیٹو فوج کے لیے سامان رسد لے جانے والے ٹرکوں پر فائرنگ کر دی ہے جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔

مقامی حکام کے وفاق کے زیر انتظام خیبر ایجنسی کےعلاقے جمرود میں حملہ آوروں نے نیٹو کے چار ٹرکوں کو فائرنگ کا نشانہ بنایا ہے۔ جمرود صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور سے چالیس کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔

خیبر ایجنسی کے اعلیٰ انتظامی عہدے دار جہانگیر اعظم وزیر نے بتایا ہے کہ چار حملہ آور دو موٹر سائیکلوں پر سوار تھے۔ ان کی فائرنگ سے دو ہیلپر ہلاک اور ایک ہیلپر اور ایک ڈرائیور زخمی ہو گیا ہے۔ حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

نیٹو کے قافلے پر یہ حملہ صوبے کی حکمراں پاکستان تحریک انصاف کے نیٹو کے سپلائی روٹ پر دھرنے کے اختتام کے ایک ہفتے کے بعد کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کے کارکنان نے شمال مغربی علاقوں میں امریکا کے بغیر پائلٹ جاسوس طیاروں کے میزائل حملوں کے خلاف احتجاج کے طور پر پشاور کے نزدیک افغانستان کی جانب جانے والی شاہراہ پر گذشتہ تین ماہ سے دھرنا دے رکھا تھا۔

فوری طور پر کسی گروپ نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے لیکن ماضی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ جنگجو اس طرح کے حملوں کی ذمے داری قبول کرتے رہے ہیں۔

ٹی ٹی پی نے ہفتے کے روز حکومت کے ساتھ مذاکرات کے عمل کی بحالی کے لیے ایک ماہ تک جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اور تنظیم کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے سوموار کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ایف ایٹ مرکز میں خودکش بم حملے اور فائرنگ کے واقعہ سے لاتعلقی ظاہر کی تھی۔ اس حملے میں ایک جج سمیت گیارہ افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔