امن مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل، کمیٹیوں میں اتفاق

امریکا، بھارت نہیں چاہتے امن کوشش کامیاب ہوں، سمیع الحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان میں حکومت اور طالبان کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے اور قیام امن کیلیے مذاکرات کرنے والی دو طرفہ کمیٹیوں نے طالبان اور حکومت کی طرف سے یکے بعد دیگرے حالیہ ہفتے کے دوران کی جانے والی جنگ بندی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کمیٹیوں کے سامنے پہلے مرحلے کی تکمیل ہو جانے کا نام دیا ہے۔

یہ بات دو ہفتوں کے تعطل کے بعد آج بدھ کے روز اکوڑہ خٹک میں ازسر نو دونوں کمیٹیوں کی پہلی ملاقات کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں کہی گئی ہے۔ اس موقع پر دونوں طرف سے کی گئی جنگ بندی کے بعد پیش آنے والے واقعات کا جائزہ لیا ہے۔ اس دوران کہا گیا اب امن مذاکرات کا دوسرا اور فیصلہ کن دور شروع ہو گیا ہے۔

دونوں کمیٹوں کے ذمہ داران نے امن مذاکرات کے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہونے کے حوالے سے اس امر عندیہ ہے کہ اہم مرحلے کیلیے کمیٹیوں کی موجودہ ہئیت میں تبدیلی بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم یہ ابھی نہیں کہا گیا کہ یہ تبدیلی کمیٹیوں میں بعض نئے ارکان کے اضافے کی حد تک ہو گی، بعض اراکین کی تبدیلی کے حوالے سے یا مکمل طور پر ان کمیٹیوں کی جگہ نئی کمیٹیاں قائم کر دی جائیں گی۔

طالبان کی نامزد کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے اس بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ اہم مرحلہ شروع ہو رہا ہے۔ اس لیے اس کمیٹی میں وزیر اعظم، فوج ، حساس اداروں ، وزارت داخلہ سمیت صوبائی حکومتوں کی بھی نمائندگی کی کوئی صورت ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب سرکاری کمیٹی کے سربراہ عرفان صدیقی نے اس موقع پر کہا اصل مقصد پرانی یا نئی کمیٹی نہیں بلکہ امن کا قیام ہے۔

ایک سوال کے جواب میں مولانا سمیع الحق نے کہا اسلام آباد ضلع کچہری میں دہشت گردی کی ذمہ داری قبول کرنے والی تنظیم احرار الہند ایک نیا نام ہے طالبان نے بھی اس کے بارے مں لاعلمی ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ ہم ان کے بارے میں جانکاری کی کوشش میں ہیں۔

اس موقع پر مولانا سمیع الحق نے دو ٹوک کہا کسی دہشت گردی کے واقعے کی مذمت طالبان کی طرف سے بھی ہونی چاہیے جبکہ دوسری طرف سے بھی احتیاط کی جائے اور ہر واقعے کی ذمہ داری فوری طور پر طالبان پر نہ ڈال دی جائے۔ انہوں نے کہا کھلے الفاظ میں کہا امریکا، بھارت ، بھارتی ایجنسی را اور افغانستان ہر طرف سے کوشش کی جائے گی کہ امن مذاکرات میں تعطل پیدا ہو۔

مولانا نے کہا میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ بعض طاقتیں ایڑی چوٹی کا زور لگائیں گی کہ امن عمل متاثر ہو جائے۔ اس لیے بڑے حوصلے سے مذاکرات کو آگے بڑھانا چاہیے۔ کیونکہ بارہ تیرہ برسوں کی جنگ کو اتنی جلدی ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کسی دہشت گردی کے ذمہ داروں کا پتہ چلانے کیلیے حکومت اور طالبان کو ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہیے۔

دونوں کمیٹیوں کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بتایا گیا ہے طالبان کی نامزد کمیٹی وزیراعظم سے ملاقات کرنے کی خواہش مند ہے۔ یہ ملاقات اگلے مرحلے کے مذاکرات کیلیے نقشہ کار طے کرنے میں دوطرفہ تعاون کیلیے ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں