''جج دہشت گردوں کی نہیں،اپنے محافظ کی گولی کا نشانہ بنے''

محافظ کے ہاتھ میں پستول تھا،دھماکا ہوتے ہی اس سے گولیاں چل گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان کے وزیرداخلہ چودھری نثارعلی خان نے اسلام آباد میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج رفاقت احمد خان اعوان کے دہشت گردی کے واقعہ میں قتل کے حوالے سے نیا انکشاف کیا ہے اور بتایا ہے کہ وہ کسی دہشت گرد کی گولی کا نشانہ نہیں بنے تھے بلکہ انھیں ان کے اپنے ہی محافظ نے گولیاں ماری تھیں۔

اسلام آباد کے علاقے مرکز ایف ایٹ میں واقع کچہری میں گذشتہ سوموار کو دہشت گردوں کی اندھادھند فائرنگ اور بم حملے کے نتیجے میں گیارہ افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔پہلے حکام نے یہی بتایا تھا کہ جج رفاقت احمد اعوان دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بنے ہیں لیکن جمعرات کو وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے قومی اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اپنے سیکیورٹی گارڈ کی فائرنگ سے جاں بحق ہوئے تھے اور اس نے اس کا اعتراف کرلیا ہے۔

انھوں نے ایوان کو بتایا کہ جب دہشت گردوں نے ضلعی عدالتوں کے احاطے میں فائرنگ شروع کی تو جج اور ان کے عملے نے خود کو ریٹائرنگ روم میں بند کرلیا۔اس وقت گارڈ کے ہاتھ میں پستول تھا۔جب باہر دھماکے کی آواز سنی گئی تو اس نے ٹریگر دبا دیا اور پستول سے نکلنے والی تین گولیاں جج کو لگ گئیں اور وہ جاں بحق ہوگئے۔

انھوں نے بتایا کہ محافظ نے گولیاں چلانے کا اعتراف کرلیا ہے اور میڈیکل رپورٹ سے بھی یہ ثابت ہوگیا ہے کہ جج کو لگنے والی گولیاں پستول کی تھیں،کلاشنکوف کی نہیں تھیں۔البتہ انھوں نے اس امر کی وضاحت نہیں کی کہ محافظ سے افراتفری میں جج پر گولیاں چل گئی تھیں یا اس نے جان بوجھ کر ایسا کیا تھا یا اس نے اس ناگہانی صورت حال میں جج کی جانب ہی پستول کا کیوں رُخ کیا ہوا تھا۔

وزیر داخلہ نے قومی اسمبلی میں مزید یہ انکشاف کیا کہ ایف ایٹ کچہری میں حملے کا ٹارگٹ ایک اور جج تھے جو اس دن عدالت میں نہیں آئے تھے۔انہوں نے کہاکہ حملے کے ذمے دار ملزمان کو ڈھونڈ نکالیں گے اور اس میں جو بھی ہاتھ کارفرما ہیں،انھیں قوم کے سامنے لایا جائےگا۔

انھوں نے کہا کہ ایف ایٹ کچہری کے سانحے کے حوالے سے عدلیہ اور وکلاء برادری نے ذمے دارانہ انداز میں اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے اور وہ یہ کہ وہ دہشت گردی کے خلاف متحد ہیں۔اس طرح کا پیغام پارلیمان سے بھی جانا چاہیے تھا لیکن بعض ارکان نے حکومت پر بے جا تنقید پر اکتفا کیا ہے۔

چودھری نثار علی خان نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات کا عمل اس لیے آگے بڑھایا جارہا ہے کہ یہ ایک آپشن تھا، اس کی منظوری کل جماعتی کانفرنس میں دی گئی تھی لیکن مذاکرات کرنے والوں سے مذاکرات کریں گے، دہشت گردی کرنے والوں سے انہی کی زبان میں بات کریں گے، دہشت گردی سے متعلق حکومت کی آج بھی یہی پالیسی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے ارکان اسمبلی کو حکومتی فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے عمل کو تیزی سے آگے بڑھایاجائےگا اور مذاکرات کے لیے نئی حکومتی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔حکومتی کمیٹی میں خیبرپختونخواکی صوبائی حکومت کا نمایندہ بھی شامل ہوگا، براہ راست مذاکرات پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ہماری کوشش ہے کہ آئندہ ہفتے سے طالبان سے براہ راست مذاکرات شروع ہوجائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں