.

غداری کیس : پرویز مشرف کی ایک اور درخواست خارج

''جج متعصب اور عدالت کی تشکیل غیر قانونی نہیں''، مختصر عدالتی فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں انتہائی اہمیت کے مقدمہ غداری کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے سابق صدر اور سابق آرمی چیف پرویز مشرف کی طرف سے دائر کردہ ایک اور درخواست مسترد کر دی ہے۔

یہ درخواست خصوصی عدالت کی تشکیل کے طریقہ کار کو چیلنج کرنے اور ججوں کے بارے میں ملزم پرویز مشرف کے اس موقف پر مبنی تھی کہ یہ جج حضرات ملزم کے بعض اقدامات سے براہ راست متاثر ہو چکے ہیں اس لیے یہ ملزم کے بارے میں تعصب رکھتے ہیں۔

اس بارے میں تین رکنی خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس فیصل عرب نے جمعہ کے روز مختصر فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ فیصلے میں ملزم کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے۔

واضح رہے خصوصی عدالت اس سے پہلے ملزم پرویز مشرف کی یہ درخواست بھی مسترد کر چکی ہے جس میں پرویز مشرف نے اپنے خلاف غداری کیس فوجی عدالت میں چلانے کیلیے کہا تھا اور خصوصی عدالت کے اس اختیار کو چیلنج کیا تھا۔ اس فیصلے سے قبل ملزم عدالت میں تھوڑے وقت کیلیے حاضر بھی ہو گیا تھا۔

لیکن بعد ازاں اسلام آباد کی ضلع کچہری میں ہونے والی دہشت گردی کو جواز بنا کر پرویز مشرف ایک بار پھر عدالت میں حاضر نہ ہوئے لیکن عدالت نے اس کا نوٹس لیا اور انہیں حاضری کیلیے کہا۔

جمعہ کے روز غداری کیس کی سماعت کرنے والی عدالت کی تشکیل اور ججوں کے مبینہ تعصب کے بارے میں درخواست کے خارج ہونے کے بعد اب بھی پراسیکیوٹر کے تقرر اور ملزم کے علاج اور والدہ کی تیمارداری کے لیے ملک سے باہر جانے کی اجازت سے متعلق درخواست پر فیصلہ ہونا باقی ہے۔

عدالتی سماعت اب 11 مارچ کو ہو گی۔ دوسری جانب وکلائے استغاثہ نے ملزم پرویز مشرف کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرنے پر زور دیا تا کہ ملزم پر فرد جرم عاید ہو سکے اور عدالتی کارروائی آگے بڑھے۔