.

غداری کیس: مشرف کو ایک دن کیلیے پھر استثنا

سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد 1100 سے 2200 ہو گئی، 14 مارچ کو طلبی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غداری کیس کے ملزم اور پاک فوج کے سابق سربراہ پرویز مشرف کو عدالت کے سامنے پیش ہونے سے مزید ایک دن کیلیے استثنا دے دیا گیا ہے۔ پاکستان کی آئینی ، عدالتی اور فوجی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت کے حامل مقدمہ میں سابق فوجی سربراہ کو خصوصی عدالت کے روبرو پیش ہونے کا حکم 5 مارچ کو دیا گیا تھا۔

پچھلی سماعت کے موقع پر جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں قائم تین رکنی عدالت نے سختی سے حکم دیا تھا ''حالات جیسے بھی ہوں ملزم کو 11 مارچ کو عدالت میں پیش ہونا ہو گا۔'' لیکن آج منگل کے روز پرویز مشرف کو عدالت میں حاضر ہونے سے استثنا دلوانے میں حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی وزارت داخلہ کی رپورٹ کام آ گئی، جس میں پرویز مشرف کی جان کو خطرہ بتایا گیا تھا۔

آج خصوصی عدالت کی کارروائی کا آغاز ہوا تو ملزم حاضر نہ تھا۔ وکلاء صفائی نے عدالت کی توجہ وزارات داخلہ کی حالیہ رپورٹ کی جانب مبذول کراتے ہوئے استدعا کی کہ ان کے موکل کا آج کیلیے عدالتی حاضری سے استثنا دے دیا جائے۔

عدالت نے یہ استدعا منظور کرتے ہوئے ریمارکس دیے '' اگرچہ سیکرٹری داخلہ کے مطابق پرویز مشرف کی حفاظت کی خاطر غیر معمولی انتطامات کیے گئے ہیں لیکن ایسے حالات میں جس شخص کو دھمکیاں مل رہی ہوں وہ ذہنی دباو کا شکار ہوتا ہے۔ اس لیے ان حالات میں ملزم کو حاضری کیلیے نہیں کہا جا سکتا ہے۔ '' یہ کہہ کر عدالت نے آج کیلیے پرویز مشرف کی حاضری سے استثنا کی درخواست منظور کر لی۔

اس کے ساتھ ہی عدالت نے اس مقدمے کی سماعت 14 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے ملزم کو عدالت میں طلب کر لیا ہے۔ امکان ہے اگلی سماعت پر فرد جرم عاید ہو سکے گی۔ عدالت کے سربراہ نے ملزم کے وکلاء کو ٘مخاطب کرتے ہوئے کہا اگر پرویز مشرف کیخلاف شروع میں ہی فرد جرم عاید کر دی جاتی تو آج یہ صورت حال نہ ہوتی۔ واضح رہے فرد جرم عاید کرنے کا معاملہ تقریبا اڑھائی ماہ سے لٹکا چلا آ رہا ہے۔

عدالتی کارروائی کے دوران عدالت نے سیکرٹری داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ ملزم کی سکیورٹی کیلیے ہرممکن انتظامات کریں۔ سیکرٹری داخلہ نے ملزم کی سکیورٹی کے حوالے عدالت کو بتایا کہ ہرممکن اقدامات کیے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود حکومت ملزم کی سکیورٹی آئی ایس آئی ، ایم آئی ، یا ٹرپل ون بریگیڈ کے سپرد کرنے کو تیار ہے۔

اس سے پہلے عدالت میں پراسکیوٹر اکرم شیخ نے کہا ان کی پیر کی شام سیکرٹری داخلہ سے بات ہوئی تھی جس میں انہوں نے پرویز مشرف کی حفاظت کیلیے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا تھا ۔ ان کے بقول ہسپتال سے عدالت تک کے راستے پر تعینات کیے گئے پولیس اہلکاروں کی تعداد دو گنا کرتے ہوئے 2200 کر دی ہے۔ پراسیکیوٹر کا یہ بھی کہنا تھا اگر عدالت اجازت دے تو حکومت ملزم کو پکڑ کر عدالت میں پیش کر سکتی ہے۔