.

پاکستانی طالبان کی مذاکراتی کمیٹی طالبان قیادت سے ملنے وزیرستان روانہ

پولیو ورکرز پر حملے روکنے اور جنگ بندی پر عمل پر بات ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں امن قائم کرنے کیلیے حکومت اور طالبان کمیٹیوں کے توسط سے جاری کوششیں آج جمعرات کے روز سے اگلے مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔ اس سلسلے میں اہم ترین قدم طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کا سرکاری ہیلی کاپٹر پر شمالی وزیرستان روانہ ہونا ہے۔ دونوں کمیٹیوں کے تعطل کے بعد اکوڑہ خٹک میں ہونے والی ملاقات میں کہا گیا تھا اب مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔

طالبان کمیٹی نے اکوڑہ اجلاس کے اگلے روز مولانا سمیع الحق کی قیادت میں وزیر اعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کی تو اس موقع پر طالبان سے ملاقات کیلیے وزیرستان جانے کے معاملے پر بھی بات کی تھی۔ جس کی پذیرائی ہوئی اور یہ بھی اطلاعات سامنے آئیں کہ طالبان کمیٹی کے ساتھ حکومتی کمیٹی کے ارکان بھی وزیرستان جائیں گی۔ اس موقع پر نئی حکومتی کمیٹی تشکیل کے امور پر بھی غور کیا گیا تھا۔

اس حوالے سے بدھ کے روز اس وقت غیر معمولی پیش رفت ہوئی جب وزیر اعظم نے صوبہ کے پی کے کی حکمران جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور کچھ ہی دیر بعد حکومت نے اپنی نئی کمیٹی کا اعلان کر دیا گیا۔ حکومت کی نئی مذاکراتی کمیٹی میں اہم انتظامی افسران کے ساتھ ساتھ قبائلی علاقوں میں سرکاری ذمہ داری پر فائز رہنے کا تجربہ یا قبائلی علاقوں سے گہرا تعلق ہونے کا پس منظر رکھنے والی شخصیات شامل ہیں۔

نئی حکومتی کمیٹی کے اعلان کے بعد طالبان کمیٹی اور وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان کے درمیان بھی اسلام آباد میں اہم ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں طالبان نمائندوں سے مذاکراتی کمیٹی کے ارکان کی براہ راست ملاقات کا معاملہ بھی زیر بحث آیا ۔ نیز فوری طور پر اس سمت میں آگے بڑھنے کیلیے انتظامت اور تیاری کی ہدایت دے دی گئی۔

جمعرات کے روز تقریبا گیارہ بجے کے بعد کمیٹی کے ارکان پروفیسر ابراہیم، مولانا یوسف خان ، مولانا عبدالحئی کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق کی زیر قیادت وزیرستان روانہ ہو گئے ہیں۔ فوری طور پر سرکاری کمیٹی کے کسی رکن کی روانگی کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ امکان ہے کہ کمیٹی طالبان قیادت سے نئی پیدا شدہ صورت حال پر مشاورت کرے گی اور پولیو ورکرز پر حملے روکنے کے ساتھ جنگ بندی پر دونوں طرف سے پابندی کی اہمیت پر زور دیا جائے گا۔