غداری کیس: پرویز مشرف کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری

"ملزم 31 مارچ کو پیش نہ ہوا تو گرفتار کر کے پیش کیا جائے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان کی تاریخ کے سب سے اہم مقدمے '' غداری کیس'' کے ملزم اور سابق فوجی سربراہ پرویز مشرف کے آج جمعہ کے روز بھی خصوصی عدالت میں پیش نہ ہونے کے باعث ان کے وکلاء کی طرف سے دائر کردہ متفرق درخواست پر عدالت نے فیصلہ سنا دیا ہے۔

عدالت کی طرف سے سنائے گئے فیصلے میں مسلسل ملزم کی عدم حاضری پر سخت نوٹس لیتے ہو ئے حکم دیا ہے کہ 31 مارچ کو پرویز مشرف کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے۔

عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ اگر ملزم خود حاضر نہ ہوئے تو انہیں گرفتار کر کے پیش کیا جائے۔ کہا گیا ہے کہ اس عدالتی حکم کا مطلب ملزم کے ناقابل ضمانت جاری کیے گئے ہیں۔ تاہم گرفتاری کیلیے جاری کیے گئے ان احکامات کا اطلاق 31 مارچ کی صبح سے ہوگا۔

ملزم کے وکلاء نے دس مارچ کو جاری کیے گئے وزارت داخلہ کے'' الرٹ '' کے حوالے سے ایک نئی متفرق درخواست دائر کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا تھا کہ ملزم کے عدالت تک آنے جانے کے راستوں پر تعینات تقریبا سولہ سو پولیس اہلکاروں کی سکیورٹی کلیرنس یقینی بنائی جائے، تا کہ پنجاب کے مقتول گورنر سلمان تاثیر کی طرح پرویز مشرف بھی اپنی ہی حفاظت پر مامور کسی اہلکار کی گولی کا نشانہ نہ بن جائیں۔ نیز جب تک پولیس اہلکاروں کی سکیورٹی کلیرنس اور چھان بین مکمل نہیں ہوتی ملزم کو عدالت میں حاضری سے مستثنی قرار دیا جائے۔ لیکن عدالت نے اس متفرق دخواست کو اسی روز مسترد کر دیا ہے۔

عدالت نے پرویز مشرف کو سکیورٹی اہلکاروں کی چھان بین تک عدالت میں حاضری سے استثنا دینے اور ان کی عدم موجودگی وکیلوں کے سامنے فرد جرم عاید کرنے کے بارے میں سماعت میں وقفے کے بعد دونوں طرف کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

واضح رہے تین رکنی خصوصی عدالت کے سربراہ فیصل عرب جنہوں نے ایک روز قبل بھی 11 مارچ کے اپنے حکم کو برقرار رکھتے ہوئے 14 مارچ کو ملزم پرویز مشرف کو عدالت میں حاضر ہونے کیلیے کہا تھا ۔ انہوں نے وکلاء صفائی کی جمعہ کے روز سامنے آنے والی متفرق درخواست پر پراسکیوٹر اکرم شیخ کے اعتراضات کے تناظر میں وکلاء صفائی کو نصف گھنٹے کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ گیارہ بجے تک کے عدالتی وقفے کے بعد بتائیں کہ پرویز مشرف اگر عدالت میں آنا اپنی حفاظت کے لیے اچھا نہیں سمجھتے تو کیا فرد جرم ان کے وکلاء کی موجودگی میں عاید کر دی جائے۔

اس سے پہلے عدالت کے روبرو پراسیکیوٹر اکرم شیخ نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ غداری کیس کے ملزم پرویز مشرف کو اب تک عدالت نے آٹھ مرتبہ طلب کیا گیا ہے، اس حوالے سے آٹھ مرتبہ کیے گئے سکیورٹی انتظامات پر بیس کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ گویا پاکستانی تاریخ کا یہ اس حوالے سے مہنگا ترین مقدمہ بن چکا ہے۔

وقفے کے بعد عدالتی کارروائی دوبارہ شروع ہوَئی تو غداری کیس کے ملزم پرویز مشرف کے وکلا نے عدالت کے اٹھائے گئے دونوں سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا '' حاضری کے موقع پر درپیش خطرات سے عدالت کو آگاہ کیا جا چکا ہے، اس بارے میں ایک تحریری درخواست بھی عدالت کو دی گئی ہے تاکہ پولیس اہلکاروں کی چھان بین کرائی جائے۔ اس لیے ایسا ہونے سے پہلے پرویز مشرف عدالت میں حاضر نہیں ہو سکتے۔

عدالت کے دوسرے سوال کے بارے میں ان وکلاء نے موقف پیش کیا کہ پرویز مشرف کی غیر حاضری میں ان کے وکلا کی موجودگی میں فرد جرم عاید کرنے کی تجویز پراسیکیوٹر اکرم شیخ نے دی ہے جبکہ وکلاء صفائی نے پہلے ہی ان کی تقرری چیلنج کر رکھی ہے۔ اس لیے ایسے پراسیکیوٹر کی تجویز سے اتفاق کیسے کیا جا سکتا ہے۔

اس پر عدالت کی طرف سے کہا گیا ''پراسیکیوشن میں اکرم شیخ اکیلے نہیں ہیں اور بھی وکیل ہیں۔ '' تاہم پرویز مشرف کے وکلاء نے اس تجویز سے اتفاق نہ کیا اور اٹھارہ وکلاء کی پراسیکیوشن کیلیے خدمات کو سرکاری خزانے پر بوجھ قرار دیا۔ عدالتی فیصلہ سنائے جانے کے بعد پرویز مشرف کے وکلاء نے موقف اختیار کیا ہے کہ عدالت کو وارنٹ جاری کرنے کے بجائے پہلے فرد جرم کے بارے میں حکم دینا چاہیے تھا۔ عدالتی کارروائی اس کے ساتھ ہی 20 مارچ تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں