امریکی ہیرو شکیل آفریدی کی سزا میں دس سال کمی

یہ فیصلہ بھی ناانصافی پر مبنی ہے، پھر چیلنج کریںگے: سمیع آفریدی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے پاکستان میں ٹھکانے تک پہنچنے اور ایبٹ آباد میں امریکی کمانڈو آپریشن میں مدد دینے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا میں ایک ٹریبیونل نے دس سال کی کمی کر دی ہے، اس سلسلے میں جاری کیے گئے فیصلے کے مطابق اب شکیل آفریدی کو 33 سال کے بجائے 23 سال قید بھگتنا ہو گی، اس فیصلے کے مطابق پہلے سے سنائے گئے جرمانے میں بھی ایک لاکھ روپے کی کمی کر دی گئی ہے۔

شکیل آفریدی پر ملکی خود مختاری کے خلاف کام کرنے کا مقدمہ مئی 2012 کے بعد اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کی عدالت میں چلایا گیا تھا۔ جہاں ملزم کو 33 سال قید اور 3 لاکھ 20 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف ملزم شکیل آفریدی نے فاٹا ٹریبیونل میں اپیل دائر کی۔ فاٹا ٹریبیونل نے سزا کو مبہم قرار دے کر اگست 2013 میں مقدمہ واپس کمشنر پشاور کو بھیج دیا۔

ملزم کے وکیل سمیع اللہ آفریدی نے اب سزا میں کمی کے اس فیصلے کو ایک مرتبہ پھر فاٹا ٹریبیونل میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سمیع اللہ آفریدی کے مطابق '' یہ فیصلہ بھی ناانصافی پر مبنی ہے، ہم اس مقدمے کا از سر نو ٹرائل چاہتے ہیں۔''

واضح رہے شکیل آفریدی کو امریکا میں ایک ہیرو سمجھا جاتا ہے۔ امریکا کی یہ کوشش رہی ہے کہ شکیل آفریدی کو رہا کر کے امریکا بھیج دیا جائے۔ جبکہ پاکستانی حکام اس معاملے کو عدالتی قرار دے کر مداخلت نہ کرنے کا کہتے ہیں۔ شکیل آفریدی پر پاکستان میں قتل کا ایک مقدمہ بھی زیر سماعت ہے۔ مبینہ طور پر شکیل آفریدی نے غیر مجاز طور ایک نوجوان کا آپریشن کر کے اسے مار دیا تھا۔

امریکی قانون سازوں کی طرف سے شکیل آفریدی کو رہا نہ کیے جانے کی صورت میں پاکستان کی امداد روکنے کا بھی مطالبہ کیا جا چکا ہے۔ پاکستان نے 33 ملین ڈالر کی امداد روکنے کے اس مطالبے پر تنقید کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں