.

حکومت، طالبان براہ راست مذاکرات کیلیے جگہ اور ایجنڈا پر اتفاق

براہ راست مذاکرات دو سے تین دن میں ہوں گے: مولانا سمیع الحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں نئی حکومتی کمیٹی اور طالبان کے درمیان پہلے باضابطہ مذاکرات کے بعد یہ بات ذرائع کے حوالے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکومتی کمیٹی اور طالبان کی شوری کے درمیان براہ راست مذاکرات کے لیے جگہ پر اتفاق ہو گیا ہے۔

فریقین میں براہ راست مذاکرات آئندہ چند روز بنوں ایف آر کے علاقے میں میں کیے جائیں گے، تاہم باضابطہ طور پر مذاکرات کی جگہ کو فی الحال ظاہر نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حکومت اور سکیورٹی فورسز براہ راست مذاکرات کیلیے آنے والے طالبان رہنماوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا اور انہیں اس موقع پر گرفتاری یا کسی کسی کاروائی کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑے گا۔

ہفتے کے روز وفاقی دارالحکومت کے پنجاب ہاوس میں تقریبا تین گھنتے جاری رہنے والے مذاکرات کی اہم بات وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا مسلسل موجود رہنا تھا۔ اس دوران طالبان کی طرف سے اسیران کی رہائی کا مطالبہ بھی آئندہ دو سے تین دن میں ہونے والے متوقع براہ راست مذاکرات کے ایجنڈے کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔

دونوں جانب کی کمیٹیوں نے اس امر پر اتفاق کیا ہے مذاکرات مخالف عناصر کی طرف سے کسی دہشت گردی کے خدشے کے پیش نظر مذاکرات کی جگہ کا اعلان نہ کیا جائے۔ ایک اطلاع یہ بھی ہے ایک سے زائد جگہوں پر اتفاق کیا گیا ہے اور موقع پر زیادہ محفوظ جگہ پر براہ راست مذاکرات کو منتقل کیا جا سکتا ہے۔

ان ذرائع کا کہنا ہے کہ براہ راست مذاکرات کے لیے متعین تاریخ سامنے نہ آنے کی وجہ محض انتظامی ہے کوئی اور نہیں ہے۔ طالبان کمیٹی کے اہم رکن پروفیسر ابراہیم نے '' العربیہ '' سے بات کرتے ہوئے کہا جگہ کا تعین اور نشان دہی کر دی گئی ہے ، تاہم سکیورٹی کی صورتحال کے پیش نظر اعلان نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا '' آج کے اجلاس میں براہ راست اجلاس کا ایجنڈا بھی طے ہو گیا ہے اس میں اسیران کی رہائی بھی شامل ہے تاہم اصل ہدف امن کا قیام ہے۔ '' ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ''حکومت کی نئی کمیٹی کے ساتھ طالبان کمیٹی کہ یہ پہلی ملاقات بہت خوشگوار اور تعمیری ماحول میں ہوئی ہے۔''

واضح رہے طالبان کمیٹی نے 13 مارچ کو وزیرستان میں نامعلوم مقام پر طالبان شوری کے ارکان مذاکرات کے فیصلہ کن مرحکے کیلیے مشاورت کی تھی۔ اب اگلے دو سے تین دنوں میں براہ راست مذاکرات حتمی فیصلوں کی طرف اہم قدم ہو سکتی ہیں۔ امکان ہے دونوں فریق اس موقع پر رضاکارانہ جنگ بندی میں توسیع پر بھی اتفاق کر لیں۔

مولانا سمیع الحق نے آج کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ براہ راست مذاکرات میں طالبان کی کمیٹی کے ارکان بھی موجود رہیں گے۔ انہوں نے آج کے اجلاس کے حوالے سے کہا دونوں طرف سے فراخ دلی کا ثبوت دیا گیا ہے۔