.

صوبہ بلوچستان: خوفناک حادثہ، 38 جاں بحق، لاشیں ناقابل شناخت

حادثے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، کیچ میں 5 دہشتگرد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبہ بلوچستان میں ہفتے کا دن ہلاکتوں کے حوالے سے غیر معمولی رہا۔ سب سے زیادہ انسانی جانیں صنعتی شناخت رکھنے والی تحصیل حب میں خوفناک حادثے میں ہوئیں۔ دو بسوں اور دو ٹینکروں کے اس حادثے میں لگ بھگ اڑتیس افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔

ان جاں بحق ہونے والوں میں نیوی کے چھ اہلکار بھی شامل ہیں ۔ حادثے کے بعد بسوں میں آگ بھڑک اٹھنے سے اکثر لاشیں جھلس کر ناقابل شناخت ہوگئیں۔ کئی لاشیں جھلس جانے کی وجہ سے ایک دوسری کے ساتھ چپک گئی تھیں۔ شناخت کیلیے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب وزیر اعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے ضلع کیچ میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی گرفتاری کیلیے کی گئی ایک کارروائی میں آٹھ دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا جبکہ پانچ دہشت گرد ہلاک ہو گئے ہیں۔

بلوچستان میں دہشت گردی کی کئی مہینوں سے جاری یکطرفہ کارروائیوں کے توڑ کیلیے سکیورٹی فورسز نے لمبے وقفے کے بعد یہ کارروائی کی ہے۔ جبکہ پچھلے کئی ماہ سے دہشت گردوں نے ضلع حضدار اور ضلع کیچ میں بطور خاص معصوم شہریوں کا نشانہ بنا رکھا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان سے کراچی آنے والی دو مسافر بسیں یکے بعد دیگرے دو ٹینکروں سے علی الصباح ٹکرا گئی۔ حادثے کے بعد آگ نے ان بدقمست بسوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ لمبے روٹ پر ہونے کی وجہ سے بسوں کے دروازے لاک تھے جو زیادہ خوفناک اموات کا سبب بنے۔

بتایا گیا ہے پہلے ایک بس ایک آئل ٹینکر سے ٹکرائی اور اس کے کچھ ہی دیر بعد اسکے پیچھے آنے والی دوسری مسافر بس بھی ایک اور آئل ٹینکر سے ٹکرا گئی ۔ دونوں بسیں اس وقت حادثے سے دو چار ہوئیں جب یہ بسیں چڑھائی چڑھ رہی تھیں۔

ایک رائے یہ سامنے آئی ہے کہ پہلا حادثہ ہی دوسرے بس حادثے کا باعث بنا ۔ کہ چڑھائی کے ساتھ ہی دوسری بس کے سامنے ایک غیر متوقع صورت حال تھی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مسافر بسوں نے بڑے سائز کے آئل ٹینک اپنے ساتھ لیے ہوئے تھے۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا بسوں نے یہ آئل ٹینک تیل کی سمگلنگ کیلیے اضافی طور پر ساتھ رکھے ہوئے تھے یا محض اپنی ضرورت کیلیے معمول کے آئل ٹینک تھے۔

ان بسوں میں عام لوگوں کے ساتھ ساتھ ساحلی پٹی پر مختلف جگہوں پر تعینات بحریہ کے اہلکار بھی سفر کرتے ہیں۔ اسی وجہ دیر سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جاں بحق مسافروں میں کم از کم چھ نیوی اہلکار بھی شامل ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ جھلسنے کی وجہ سے ناقابل شناخت ہو جانے والی اکثر لاشوں کا ڈی این اے ٹیسٹ کرانا ہو گا۔

دوسری جانب ان حادثوں میں زخمی ہونے والوں کے لیے کراچی کے سول ہسپتال میں قائم کراچی کے اکلوتے برن یونٹ میں جگہ کم پڑ گئی ہے۔ زخمیوں کے ورثاء اس وجہ سے سخت پریشان دیکھے گئے۔

صوبہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی ایک کارروائی کے دوران پانچ دہشت گرد ہلاک اور آٹھ گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ یہ کارروائی ضلع کیچ میں کی گئی ہے۔ اس بارے میں ابھی تفصیلات کا انتظار ہے۔