.

کراچی: انڈر پاس کی تعمیر سے قدیمی مندر کو نقصان

2 ہفتوں میں رپورٹ دیں، چیف جسٹس، حکم امتناعی چاہیے، ہندو رہنما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چیف جسٹس پاکستان سید تصدق حسین جیلانی نے سندھ حکومت کو حکم دیا ہے کہ کلفٹن کراچی میں زیر تعمیر انڈر پاس کی وجہ سے قدیم مندر رتن ایشور مہادیو کو امکانی طور پر پہنچنے والے نقصان کے بارے میں دو ہفتوں میں رپورٹ پیش کی جائے۔

چیف جسٹس نے یہ حکم پاکستان کے صنعتی و تجارتی مرکز کراچی کی ہندو کمیونٹی کی طرف سے یہ مسئلہ اٹھائے جانے کے بعد دیا ہے۔ جس میں شکایت کی گئی تھی کہ کلفٹن میں انڈر پاس کی تعمیر سے 150 سال پرانی ہندو عبادت گاہ کو ناقابل تلافی نقصان کا اندیشہ ہے۔ واضح رہے قدیمی مندر کلفٹن ساحل سے متصل ہے۔

پاکستان ہندو کونسل کے سر پرست رمیش کمار نے سپریم کورٹ کی طرف سے جاری کیے گئے اس حکم پر عدم اطیمنان ظاہر کرتے ہوئے چیف جسٹس سے تعمیرات روکنے کیلیے فوری حکم امتناعی جاری کرنے کی استدعا کی ہے۔ انہوں نے دو ہفتوں میں رپورٹ طلب کیے جانے کے بارے میں کہا ''اس دوران مندر کو جو نقصان پہنچنا ہو گا پہنچ چکا ہو گا۔ ''

واضح رہے کلفٹن سے بحریہ ٹاون کو ملانے کیلیے معروف نجی تعمیراتی کمپنی بحریہ ٹاون اس تعمیراتی منصوبے کیلیے تعاون کر رہی ہے۔ جبکہ ہندو کمیونٹی کا موقف ہے کہ اس تعمیراتی منصوبے کی زد میں متروکہ وقف کی جائیداد بھی آرہی ہے۔ جس کی حفاظت حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے۔

ہندو کمیونٹی کا کہنا ہے کہ انڈر پاس کی کھدائی اور تعمیر سے پیدا ہونے والی لرزش مندر کی پرانی تعمیر شدہ عمارت کے لیے سخت خطرناک ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ انڈر پاس مبینہ طور پر مندر کی عمارت سے محض چند میٹر کے فاصلے پر ہے۔