.

طالبان سیاسی شوریٰ اور اسلام آباد کے درمیان مذاکرات شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کی شوریٰ اور حکومتی کمیٹی کے اراکین کے درمیان وزیرستان میں امن مذاکرات شروع ہوچکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے مقام کو خفیہ رکھا گیا ہے، جبکہ دونوں فریقین کے درمیان ابتدائی ملاقات میں حکومتی کمیٹی نے غیر معینہ مدت تک جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی سیاسی شوریٰ سے مذاکرات کیلئے دونوں کمیٹیوں کے اراکین ٹل پہنچ گئے ہیں۔ جہاں سے وہ شمالی وزیرستان کے بارڈر پر واقع علاقہ بولان خیل کے راستے نامعلوم مقام پر روانہ ہو گئے۔ کمیٹیوں کے اراکین کے ساتھ سیاسی شوریٰ کے اہم رکن اعظم طارق کو بھی دیکھا گیا ہے۔

دوسری طرف سیاسی شوریٰ کے اراکین اور سربراہ قاری شکیل کو خوشالی کے علاقہ میں دیکھا گیا ہے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مذاکراتی اجلاس شروع ہو چکا ہے تاہم جگہ کے حوالے سے متصادم بیانات آ رہے ہیں۔ طالبان کی سیاسی شوریٰ سے براہ راست مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حوالے سے ذرائع نے بتایا ہے کہ طالبان کی سیاسی شوریٰ نے حکومتی کمیٹی سے اتحاد کے حوالے سے سوال اور کہاں تک ہونے تک بات چیت کی جا رہی ہے۔ جن پر حکومتی کمیٹی نے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے رابطہ کیا ہے اور ان سے اپنے اختیارات کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔

وزیر داخلہ نے ان کو تمام اختیار دیتے ہوئے ان کو ہدایت کی ہے کہ وہ طالبان کی قید میں مغویوں کی رہائی کیلئے کوشش کریں۔ توقع ہے کہ آج کے ہونیوالے مذاکرات ابتدائی مرحلے میں قیدیوں کی رہائی کا اعلان ہو جائے گا۔

خیال رہے کہ ان کمیٹیوں کے اراکین کو طالبان شوری سے ملاقات اور براہ راست مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے گزشتہ روز قبائلی علاقے وزیرستان روانہ ہونا تھا، تاہم موسم کی خراب صورتحال کے باعث ان کی روانگی ملتوی ہوگئی تھی۔