طالبان سے براہ راست مذاکرات، کمیٹی کی حکام کو بریفنگ

جنگ بندی میں توسیع کے امکانات اور اسیران کا ایشو زیر بحث آئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

طالبان سے پہلی مرتبہ براہ راست مذاکرات کرنے والی حکومتی کمیٹی گزشتہ روز طالبان نمائندوں سے اپنی غیر معمولی ملاقات میں ہونے والی پیش رفت سے وزیر داخلہ اور دوسرے اعلی حکام کو آج اسلام آباد میں بریف کیا ہے۔ اس بریفنگ کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کی تیاری شروع کردی گئی ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ سیکرٹری شپنگ حبیب اللہ خٹک کی زیر قیادت ضلع ہنگو میں ایک مقامی طالبان کمانڈر کی رہائش گاہ پر ہونے والے مذاکرات میں یہ چیز بھی سامنے آئی ہے کہ طالبان کا اصل ہدف پاکستانی قیادت کو امریکی جنگ سے نکلنے پر آمادہ کرنا ہے نہ کہ طاقت کے زور پر شریعت کا نفاذ ممکن بنانا ہے۔

واضح رہے رواں سال افغانستان سے امریکی انخلا کا سال ہے۔ اس کے بعد خود امریکی سرپرستی سے قائم کرزئی حکومت بھی امریکی افواج کو ابھی تک کوئی موثر کردار دینے پر تیار نہیں ہے۔ تاہم اس سلسلے میں بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ اور دیگر اعلی حکام کے ساتھ حکومتی کمیٹی کے ارکان نے طالبان کے سویلین اسیران کی رہائی، امریکی ڈرون حملوں کی وزیرستان پر اڑان اور امریکی میزائل باری کے بارے میں رہنمائی حاصل کی کہ اس سلسلے میں طالبان کو کس حد تک اور کب تک مثبت جواب دیا جا سکتا ہے۔

حکومتی کمیٹی نے وزیرستان میں امن زون قائم کرنے کی تجویز اور فوجی کی نقل و حرکت محدود کرنے کے معامالات پر بھی بات کی۔ نیز حکومتی اور طالبان کے درمیان ہونے والی پہلی براہ راست ملاقات میں جنگ بندی میں توسیع کے سلسلے میں ہونے والی بات چیت، امکانات اور رکاوٹوں سے بھی حکومتی و سرکاری عہدیداروں کو آگاہ کیا۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں آج ہونے والی اس اہم بریفنگ کے بعد ہی طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ اور جگہ کے بارے میں بھی غور کیا گیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ 13 سال کے دوران پاکستان کی حکومت اور عسکری تنظیموں کے درمیان اس نوعیت کے مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں۔

اس سے پہلے سکیورٹی اداروں اور سرکاری حکام کی عسکری شخصیات سے بات چیت ہوتی رہی اور معاہدے بھی ہوئے لیکن اب کی بار حکومت نے افراد کے بجائے عسکری تنظیموں سے مذاکرات شروع کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں