.

''جسٹس فیصل عرب غداری کیس کی سماعت جاری رکھیں گے''

تحریری حکمنامے میں مشرف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں غداری کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کا اڑھائی بجے تین صفحات پر مشتمل ایک مختصر تحریری فیصلہ سامنے آنے سے صبح کے وقت کی عدالتی صورتحال مکمل طور پر ریورس ہو گئی ہے۔ جس میں یہ چیز سامنے آئی تھی کہ تین رکنی عدالت کے سربراہ نے سماعت کرنے سے معذرت کر لی ہے۔

اڑھائی بجے دن اس بارے میں تحریری طور پر جاری کیے گئے ایک مختصر فیصلے میں ایک طرف یہ کہا گیا ہے کہ جسٹس فیصل عرب کیس کی سماعت کا حصہ رہیں گے۔ اس تحریری حکنامے کے بعد عملا ایک ڈرامائی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔

اس حکمنامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالت نے ملزم پرویز مشرف کے 31 مارچ کیلیے جاری کردہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کا حکم برقرار رہے گا اور پرویز مشرف کو پیش نہ ہونے کی صورت میں گرفتار کر کے عدالت میں لا یا جائے گا۔ نیز تین رکنی خصوصی عدالت جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں ہی سماعت کرے گی۔

تحریری عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وکیل صفائی انور منصور کے نامناسب رویے پر عدالت نے آج بدھ کے روز ایک دن کیلیے انکار کر دیا تھا۔ تاہم یہ وضاحت صبح کی سماعت کے دوران نہ کی گئی تھی۔

اس سے پہلے عدالتی کارروائی کے دوران تناو پیدا ہونے اور پرویز مشرف کے وکلاء کی جانب سے جج حضرات پر عدم اطمینان ظاہر کرنے پر جسٹس فیصل عرب کے حوالے سے بھی میڈیا میں یہ خبریں آئیں کہ جسٹس فیصل عرب سماعت سے الگ ہو گئے ہیں اور ان کے عدالت سے اٹھ کر چلے جانے کے ساتھ ہی دیگر دو معزز جج بھی کمرہ عدالت سے چلے گئے تھے۔

ملزم پرویز مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری نے اس فیصلے کے سامنے آنے پر کہا ہے کہ خصوصی عدالت نے اپنی پوزیشن کو مزید کنفیوز کر دیا ہے۔ اس فیصلے سے مزید شکوک و شبہات پیدا ہوں گے۔