.

بلاول بھٹو کو لشکر جھنگوی کی دھمکیاں، حکومت متحرک

آئی جی پنجاب کا بلاول کے چیف آف سٹاف کو فون، دوطرفہ تعاون پر گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان پیپلز پارٹی کے جوان سال سربراہ بلاول زرداری بھٹو کے ٹوئٹر کے ذریعے سامنے آنے والے اس انکشاف کے بعد کہ انہیں'' کالعدم لشکر جھنگوی نے خط لکھ کر قتل کی دھمکی دی ہے'' صوبہ پنجاب میں امن و امان سے متعلق اداروں میں ہل چل پیدا ہو گئی ہے۔

ایک روز قبل بلاول زرداری بھٹو نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا نا خوشگوار واقعہ پیش آیا تو ذمہ دار پنجاب حکومت ہو گی۔ اس انتباہی ٹوئٹر کے بعد وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے فوری طور پر انسپکٹر جنرل پولیس کو حکم دیا تھا کہ پی پی پی کے سربراہ سے رابطہ کیا جائے اور ان کی سکیورٹی کے لیے ہرممکن اقدامات کیے جائیں ، نیز بلاول زرداری بھٹو کو ملنے والی دھمکی کی تحقیقات کی جائیں کہ یہ دھمکی دینے والے عناصر کون ہیں ان کا کہاں سے تعلق ہے۔

وزیر اعلی کے اس حکم کے بعد آئی جی پنجاب نے بلاول کے چیف آف سٹاف افسر حسام شیخ کو فون کر کے صورتحال کے بارے میں جانکاری حاصل کی اور اس دوران تحقیقات میں تعاون کیلیے کہا۔ انہوں نے اس بارے میں وزیراعلی کی ہدایات کا بھی حوالہ دیا۔

واضح رہے بلاول زرداری بھٹو نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں الزام عاید کیا تھا کہ ''شریف برادران لشکر جھنگوی کو تحفظ فراہم کرتے ہیں اور اس کے خلاف کارروائی سے گریز کرتے ہیں ، اس لیے اگر شریف برادران نے کوئی کارروائی نہ کی تو ذمہ داری شریف برادران پر ہو گی۔

واضح رہے پیپلز پارٹی کی طرف سے اس سے پہلے بھی پنجاب حکومت اور مسلم لیگ نواز پر لشکر جھنگوی کے بارے میں نرمی برتنے کا الزام عاید کیا جاتا رہا ہے لیکن پنجاب حکومت اس کی تردید کرتی رہی ہے۔

دوسری جانب پنجاب اور اس کے جنوبی اضلاع میں پچھلے سال ہونے والے انتخابات میں شکست کے بعد پی پی پی کی قیادت نے خود کو عملا پنجاب سے دور رکھا ہوا ہے۔ سابق صدر آصف زرداری کے بارے میں پہلے کہا جاتا تھا کہ وہ صدارت سے فراغت کے بعد اپنی رہائش لاہور ہی میں رکھیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔

پنجاب کے سکیورٹی ادراوں کے ذرائع کے مطابق لشکر جھنگوی نامی کالعدم تنظیم پورے ملک میں موجود ہے اس لیے اس کی طرف سے ملنے والی دھمکی کے بعد صوبہ سندھ کی حکومت کو بھی پورا تعاون کرنا ہو گا۔ اس سلسلے میں سندھ حکومت کے متعلقہ ذمہ داران سے بھی بات کی جائے گی۔ نیز وفاقی اداروں سے بھی مدد لی جائے گی۔