.

توہینِ رسالت کی پاداش میں مسیحی ملزم کو سزائے موت

سزا لاہور کے ایک ایڈیشنل سیشن جج نے سنائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ایک عدالت نے توہینِ رسالت کے ملزم مسیحی نوجوان ساون مسیح کو سزائے موت دینے کا حکم دیا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج غلام مرتضیٰ نے سینٹرل جیل اچھرہ میں مقدمے کی سماعت کے بعد فیصلہ سنایا۔

ساون مسیح پر الزام تھا کہ انھوں نے گذشتہ برس اپنے مسلمان دوست سے جھگڑے کے دوران پیغمبرِ اسلام کے بارے میں گستاخانہ کلمات ادا کیے تھے۔ اس واقعے پر مشتعل ہو کر ہزاروں افراد نے لاہور کی مسیحی آبادی جوزف کالونی پر دھاوا بول کر 100 سے زائد مکانات کو جلا دیا تھا۔

ساون مسیح کے وکیل ایڈوکیٹ طاہر بشیر نے بتایا کہ عدالتی فیصلے میں 295 پی پی سی کے تحت ان کے موکل کو سزائے موت اور دو لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی گئی ہے اور اگر وہ یہ جرمانہ ادا نہیں کر پاتے تو پھر انھیں چھ ماہ قید کاٹنی ہو گی۔

ان کا کہنا ہے کہ انھیں فیصلے کی کاپی موصول ہو گئی ہے اور اب وہ سات دن کے اندر ہائی کورٹ میں اپیل کریں گے۔ طاہر بشیر کا کہنا تھا کہ ’عدالت بااختیار ہے لیکن میرے خیال سے اس مقدمے میں بھی توہین عدالت کے دیگر مقدمات کی طرح بہت زیادہ دباؤ تھا۔‘

اس مقدمے کا آغاز آٹھ مارچ 2013 کو پیش آنے والے ایک واقعے کے باعث ہوا تھا جس میں جوزف کالونی کے رہائشی بچپن کے دو دوستوں ساون مسیح اور شاہد عمران کے درمیان سنوکر کھیلتے ہوئے جھگڑا ہوا اور پھر بڑھتے بڑھتے بات ایسی بڑھی کہ ساون پر توہین مذہب کا الزام لگ گیا۔

پاکستان میں کسی مسیحی آبادی پر حملے کا یہ پہلا واقعہ نہیں تھا اور ماضی قریب میں گوجرہ اور شانتی نگر میں بھی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں لیکن آج تک نہ تو ان واقعات سے متعلق حقائق منظرخ عام پر آسکے اور نہ ہی کسی کو ذمےدار ٹھہرا کر سزا دی گئی ہے۔